قومی

PM Modi appeal for swadeshi: وزیر اعظم مودی کی سودیشی کی اپیل سے چمک اُٹھے گی کمہاروں کی دیوالی، مٹی کے دیوں کی مانگ میں اضافہ

روشنیوں  کا تہوار دیوالی آنے والا ہے۔ ایسے میں ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کی سودیشی مصنوعات اپنانے کی اپیل کے بعد مٹی کے دیے اور دیگر سامان بنانے والے اتر پردیش کے پریاگ راج کے کمہاروں میں خوشی کی لہر ہے۔وزیر اعظم کی اس اپیل کے بعد اس دیوالی پر دیسی دیوں کی مانگ بڑھنے کی امید ہے، جو کمہاروں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ پہل نہ صرف کمہاروں کے روایتی پیشے کو فروغ دے گی بلکہ دیسی مصنوعات کو بھی بڑھاوا دے گی۔

پی ایم مودی کا شکریہ

کمہاروں کا کہنا ہے کہ ’’وزیر اعظم کی اس مہم کے بعد ہمیں اچھے آرڈر مل رہے ہیں اور مانگ بھی کافی زیادہ ہے۔ اس بار ہماری دیوالی پچھلے سال کی بنسبت بہتر ہوگی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ، ’’ہم وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسی پہل کی، جس سے ہمارا کام دوبارہ زندہ ہو رہا ہے اور ہمارے گھروں میں خوشی آ رہی ہے۔‘‘کمہار جواہر لال پرجاپتی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے دیسی مصنوعات خریدنے کی اپیل کی بدولت اس بار دیوالی بہت اچھی جا رہی ہے۔ مٹی کے دیے اور دیگر روایتی سامانوں کے آرڈرز میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر روایتی اشیاء کی مانگ کے سبب، ہر جگہ میلے لگ رہے ہیں، جس سے ڈیمانڈ مزید بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا، ’’چائنیز دیوں کی مانگ اس بار کافی کم ہے۔ وزیر اعظم مودی کے سودیسی اپنانے کے اقدام سے کمہاروں کو اچھا منافع ہو رہا ہے۔‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ الیکٹرانک چاک کی مدد سے وہ دو مہینے میں ایک لاکھ سے زیادہ دیے تیار کر لیتے ہیں۔یہ رجحان نہ صرف دیسی صنعت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ ہزاروں کمہار خاندانوں کے لیے روزگار اور خوشحالی کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔

کمہاروں کے گھروں لوٹی  رونق

وہیں، امیٹھی ضلع کے صدر مقام گوری گنج کے قریب واقع مادھو پور گاؤں میں روایتی کمہاروں کے گھروں میں ایک بار پھر رونق لوٹ آئی ہے۔گاؤں کے رہائشی ہوب لال پرجا پتی اور ان کے خاندان سمیت کئی کاریگر ان دنوں پوری محنت سے مٹی کے دیے، پوجا کے برتن، چھوٹی بڑی گھنٹیاں اور بچوں کے لیے روایتی مٹی کے کھلونے بنانے میں مصروف ہیں۔ہوب لال پرجاپتی نے بتایا کہ دیوالی میں استعمال ہونے والے مٹی کے برتنوں کو تیار کرنے میں کافی محنت لگتی ہے۔اس میں مٹی کو چھاننے، گوندھنے، شکل دینے، دھوپ میں سکھانے اور پھر بھٹّی میں پکانے کا عمل شامل ہوتا ہے، جو کئی دن لیتا ہے۔یہ مناظر نہ صرف روایتی ہنر کا جشن ہیں، بلکہ دیسی اپروچ کے ذریعے مقامی روزگار اور ثقافت کو فروغ دینے کی زندہ مثال بھی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Acharya Pramod Krishnam: مجھے اس طرح کی کالز پہلے بھی آ چکی ہیں، جان سے مارنے کی دھمکی پر آچاریہ پرمود کرشنم کا بیان

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…

29 minutes ago

Banks to remain open on Sunday: تین دن کی  بینک ہڑتال سے پہلے ضروری کام نمٹا لیں یوزر، 28 ستمبر سے کئی خدمات متاثر ہونے کا امکان

یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…

41 minutes ago

Kedarnath Dham: کیدارناتھ میں صرف 5 ماہ میں 50 ٹن سے زیادہ کچرا جمع، پچھلے پورے سیزن سے ڈھائی گنا زیادہ

اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…

1 hour ago

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

3 hours ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

4 hours ago