قومی

G-20 Summit: جی-20 سربراہی اجلاس میں پی ایم مودی اور صدر رامافوسا بھارت–جنوبی افریقہ شراکت کو مزید مضبوط کریں گے: جنوبی افریقی ہائی کمشنر

نئی دہلی: اگلے ہفتے جوہانسبرگ میں منعقد ہونے والے جی-20 سربراہی اجلاس کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کی اہم ملاقات طے ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس ہائی لیول میٹنگ کے لیے ایک جامع اور وسیع ایجنڈا تیار کر لیا گیا ہے۔ یہ بات بھارت میں جنوبی افریقہ کے ہائی کمشنر انل سوکلال نے آئی اے این ایس سے خصوصی گفتگو میں بتائی۔

جی-20 لیڈرز سمٹ 22 اور 23 نومبر کو جنوبی افریقہ کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز جوہانسبرگ میں منعقد ہوگا۔ دونوں ممالک دفاع، تجارت، عوامی روابط اور سرمایہ کاری کو بڑھانے پر کریں گے گفتگو ہائی کمشنر سوکلال کے مطابق مودی–رامافوسا ملاقات نہ صرف موجودہ دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لے گی بلکہ سیکورٹی کوآپریشن، عوامی سطح پر رابطوں، تجارت اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں نئے امکانات کو بھی تلاش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمارے آزادی کے جدوجہد اور نسل پرستی کے خلاف تحریک میں ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا۔ 1994 میں جمہوریت بحال ہونے کے بعد ہمارے تعلقات میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ آج بھارت ہمارا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور سب سے اہم عالمی پارٹنرز میں شمار ہوتا ہے۔ سوکلال نے کہا کہ دونوں لیڈران تجارت، سرمایہ کاری، کھیلوں اور ثقافتی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے بھی نئی تجاویز پر گفتگو کریں گے۔

انیل سوکلال نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جب وزیراعظم مودی اور صدر رامافوسا اگلے ہفتے دو طرفہ ملاقات کے لیے ملیں گے تو وہ دونوں ممالک کے تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں گے اور ساتھ ہی ہم سکیورٹی تعاون، عوامی سطح پر رابطوں اور دیگر شعبوں میں اس اہم رشتے کو مزید گہرا کرنے کے لیے نئے تعاون کے مواقع پر بھی گفتگو کریں گے۔ اسی کے ساتھ تجارت و سرمایہ کاری، ثقافتی تعاون، کھیل اور ثقافت ہمارے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ہمارے اشتراک کے اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور جنوبی افریقہ کی شراکت ایک مشترکہ تاریخ پر قائم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی رشتہ برقرار ہے۔

ہائی کمشنر سوکلال نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی جنوب کے ممالک ہونے کے ناطے بھارت اور جنوبی افریقہ دونوں نے استحصال اور نوآبادیات کا سامنا کیا ہے اور ایک مشکل ماضی سے گزر کر ابھرے ہیں، لیکن آج دونوں ممالک عالمی جنوب کے نمایاں لیڈران ہیں۔ ہم متعدد عالمی جنوب کے فورمز کے رکن ہیں۔ برکس ایک انتہائی اہم پلیٹ فارم ہے جہاں ہم اپنے دیگر برکس شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والی عالمی بحث میں بھارت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ عالمی کثیرالجہتی نظام، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں بھی بھارت کے ساتھ ہمارا قریبی تعاون ہے، تاہم دو طرفہ سطح پر بھی ہمارے درمیان ایک گہری مشترکہ تاریخ موجود ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Minor gang-raped near Kalkaji Temple: کالکاجی مندر کے قریب نابالغ لڑکی سے اجتماعی زیادتی، انکاؤنٹر کے بعد ایک ملزم گرفتار

ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…

42 minutes ago

Jain Acharya Lokesh Ji: سکندرآباد میں وکست بھارت 2047 سیمینار، آچاریہ لوکیش بولے- سناتن روایت کا اقدار ہی ترقی یافتہ بھارت کی فکری بنیاد

آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…

2 hours ago

UP 34 IAS Officers Transfer: اتر پردیش میں بڑا انتظامی ردوبدل، 34 آئی اے ایس افسران کے تبادلے، 14 اضلاع کو ملے نئے ڈی ایم

اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…

10 hours ago