نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے ’پریکشا پہ چرچا‘ پروگرام کے نویں ایڈیشن کے دوسرے ایپی سوڈ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی صورت حال یہ ہے کہ موبائل فون بہت سے بچوں کا مالک بن چکا ہے اور وہ ٹیکنالوجی کے غلام بنتے جا رہے ہیں، جو نہایت تشویشناک امر ہے۔ وزیراعظم نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ ٹیکنالوجی کو اپنا آقا نہ بننے دیں بلکہ اس کا بہتر اور مثبت استعمال کرکے خود کو وسعت دیں۔ انہوں نے خاص طور پر مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے صحیح استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو اس سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے سیکھنے اور ترقی کے ایک ذریعے کے طور پر اپنانا چاہیے۔
کیا ہمیں اے آئی سے ڈرنا چاہیے؟
کوئمبٹور کے طالب علم آدی وکرم نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ کیا ہمیں مصنوعی ذہانت سے خوف کھانا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں اے آئی کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے اور کئی کمپنیوں میں انسانوں کے بجائے اے آئی سے کام لیا جا رہا ہے، تو ایسے میں مستقبل کے کیریئر کا انتخاب کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں وزیراعظم مودی نے کہا: ’’ہر دور میں نئی ٹیکنالوجی کے آنے پر یہی بحث ہوتی رہی ہے کہ اب سب کچھ بدل جائے گا۔ پہلے کمپیوٹر آیا تو یہی کہا گیا کہ اس سے سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ لیکن ہمیں کسی چیز سے ڈرنے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اس کے غلام نہ بنیں۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ میں ہی مالک ہوں، ٹیکنالوجی میری خادم ہے، میرا آقا نہیں۔‘‘
’موبائل بچوں کا مالک بن چکا ہے‘
وزیراعظم نے موبائل فون کے حد سے زیادہ استعمال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج بہت سے بچوں کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ اگر ان کے ہاتھ میں موبائل نہ ہو تو وہ کھانا تک نہیں کھاتے، اور اگر ٹی وی نہ ہو تو انہیں چین نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا: ’’اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ موبائل کے غلام بن چکے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موبائل آپ کا غلام ہونا چاہیے، نہ کہ آپ اس کے۔‘‘ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنے اندر یہ عزم پیدا کریں کہ وہ کسی بھی صورت ٹیکنالوجی کے غلام نہیں بنیں گے بلکہ اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔
ٹیکنالوجی کا مثبت اور بامقصد استعمال
وزیراعظم نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی طالب علم اے آئی سے یہ پوچھے کہ فلاں کتاب کہاں ملے گی یا کسی موضوع پر اچھی کتاب کون سی ہے، تو یہ ٹیکنالوجی ایک رہنما کے طور پر مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ مجھے پڑھنا نہیں، اے آئی ہی مجھے کتاب کا خلاصہ بتا دے، تو یہ طرزِ فکر نقصان دہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکھنے کا عمل خود انسان کو کرنا چاہیے، ٹیکنالوجی صرف سہولت فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، اس کا متبادل نہیں۔
کام کی نوعیت بدلیں، خود کو وسعت دیں
وزیراعظم نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ وقت کے ساتھ اپنی مہارتوں کو بہتر بنائیں اور اپنے کام کی نوعیت میں تبدیلی لاتے رہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ہمیں ٹیکنالوجی کو سمجھنا ہوگا اور خود کو وسعت دینا ہوگی۔ اپنی صلاحیتوں میں ویلیو ایڈیشن کرنا ہوگا۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو چاہے کتنی ہی جدید ٹیکنالوجی کیوں نہ آ جائے، ہمیں اس سے فائدہ ہی ہوگا اور خوف کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو مسلسل سیکھتے رہتے ہیں، خود کو اپ ڈیٹ رکھتے ہیں اور نئی تبدیلیوں کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
طلبہ کے لیے رہنمائی اور حوصلہ افزائی
وزیراعظم نے طلبہ کو پیغام دیا کہ وہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک متوازن تعلق قائم کریں۔ نہ تو اس سے دور بھاگیں اور نہ ہی اس کے اس قدر عادی ہو جائیں کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بھول جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان ٹیکنالوجی کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرے، نہ کہ خود اس کا مقصد بن جائے۔ آخر میں وزیراعظم نے طلبہ کو خود اعتمادی، نظم و ضبط اور مسلسل محنت کو کامیابی کی کنجی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ خوبیاں پیدا ہو جائیں تو کوئی بھی چیلنج مشکل نہیں رہتا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…