قومی

Parliament Deadlock Likely To Resolve: پارلیمنٹ میں تعطل ختم ہونے کے امکانات، تمام جماعتیں 28 جولائی کو اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے لیے متفق

نئی دہلی: پارلیمنٹ میں پبلک ایگزامینیشنز (غیر منصفانہ طریقوں کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 کو لے کر جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات ہیں۔ ذرائع کے مطابق تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے منگل کو اس بل پر بحث شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے قبل اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے باعث پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے پبلک ایگزامینیشنز بل پر جامع بحث کے لیے چھ گھنٹے کا خصوصی وقت دینے کی پیش کش کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے مسابقتی امتحانات کے نظام میں اصلاح کے لیے متحدہ نقطۂ نظر ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے مختلف سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈروں سے بات چیت کی۔ اس مسلسل مذاکرات کے نتیجے میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان منگل کو بل پر تفصیلی بحث کرنے پر اتفاقِ رائے قائم ہو گیا۔

پیپر لیک کے بعد بل لانے کی ضرورت محسوس ہوئی

یہ بل ملک گیر احتجاج کے پس منظر میں پیش کیا گیا ہے، جو NEET-UG پیپر لیک کے بعد سامنے آئے تھے۔ بل کا مقصد سرکاری امتحانات میں پیپر لیک، نقل، منظم امتحانی مافیا اور دیگر غیر منصفانہ طریقوں پر مؤثر طریقے سے قابو پانا ہے۔ مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے یہ بل ایوان میں پیش کیا تھا۔ ترمیمی بل میں افراد کے لیے سزا کی مدت کو موجودہ زیادہ سے زیادہ پانچ سال سے بڑھا کر کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی بھی تجویز ہے۔ منظم جرائم کے معاملے میں کم از کم سزا کو موجودہ پانچ سال کی قید سے بڑھا کر سات سال کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جرمانے کی رقم بڑھا کر 10 کروڑ روپے تک کرنے کی تجویز ہے۔ ترمیمی بل میں قانون کے تحت درج جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی بھی تجویز شامل ہے۔

کرن رجیجو نے اپوزیشن سے کی اپیل

مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے بھی اپوزیشن رہنماؤں سے بل پر بحث کی اجازت دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن مزید وقت کا مطالبہ کرے تو بحث کے لیے اضافی وقت بھی دیا جا سکتا ہے۔ کرن رجیجو نے لوک سبھا میں کہا کہ تمام ارکان بحث کے لیے تیاری کے ساتھ آئے ہیں اور اپوزیشن کے کئی ارکان نے ترمیمی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل طلبہ اور نوجوانوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کانگریس اور اس کے کچھ اتحادیوں پر جان بوجھ کر بل پر بحث نہ ہونے دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے چھ گھنٹے کا وقت دیا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید وقت بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ کرن رجیجو نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو نوجوانوں کے لیے اہم اس بل پر بحث کرنی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

8 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

9 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

9 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

10 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

10 hours ago