مسلسل انتخابی شکست، اندرونی اختلافات اور آہستہ آہستہ کم ہوتی عوامی حمایت… گزشتہ چند برسوں سے کانگریس جس سیاسی بحران سے گزر رہی تھی، کیا اب اسے اسی بنجر زمین پر نئی امید کی کرن نظر آ رہی ہے؟ نیٹ (NEET) پیپر لیک-2026 کے خلاف سڑکوں پر اُترنے والے نوجوانوں کا غصہ اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی مسلسل جاری تحریک کیا واقعی کانگریس کی سیاسی بحالی کا ذریعہ بن رہی ہے؟ 2027 کے اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہوں یا 2029 کے لوک سبھا انتخابات، آخر اپوزیشن اچانک دفاعی پوزیشن سے نکل کر جارحانہ انداز میں کیوں نظر آ رہی ہے؟ آئیے اس پوری طلبہ تحریک کے پس پردہ سیاسی حکمتِ عملی کو سمجھتے ہیں۔
پارلیمنٹ سے سڑک تک حکومت کا گھیراؤ
راہل گاندھی کی قیادت میں پورا اپوزیشن اتحاد نیٹ پیپر لیک معاملے پر مرکزی حکومت کو ہر محاذ پر گھیرنے میں مصروف ہے۔ جنتر منتر پر بڑے احتجاج، اُس وقت کے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور مسلسل سیاسی دباؤ کے بعد سیاسی فضا بدلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن مسلسل جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، تاہم اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو معاملہ صرف ایک امتحان تک محدود نہیں ہے۔ دراصل اس کے پس پردہ حکمتِ عملی 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات کو سامنے رکھ کر تیار کی جا رہی ہے۔ کانگریس کی کوشش ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو مسلسل ایسے حساس مسائل میں الجھائے رکھا جائے تاکہ اس کی انتخابی مشینری دباؤ میں رہے۔
اپوزیشن کا ‘ماسٹر اسٹروک’
نیٹ معاملے پر سڑکوں پر اُتری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی تحریک نے اپوزیشن کو وہ سیاسی زمین فراہم کر دی ہے، جس کی اسے طویل عرصے سے تلاش تھی۔ اب تک حکومت کے خلاف اپوزیشن کی بیشتر تحریکیں جنریشن زی (Gen Z) کے نوجوانوں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں، لیکن اس بار نوجوانوں کا غصہ خود بخود سڑکوں پر آیا تو کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ راہل گاندھی اور اکھلیش یادو خود مظاہرین کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے، جبکہ ممتا بنرجی بھی انڈیا بلاک کو متحد رکھتے ہوئے مرکز پر مسلسل حملہ آور ہیں۔اسی دوران سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے کا کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن کپل سبل کی رہائش گاہ پہنچنا اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ یہ تحریک اب پس پردہ ایک وسیع سیاسی محاذ بندی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اپوزیشن کی حکمتِ عملی کیا ہے؟
اپوزیشن نے حکومت کو گھیرنے کے لیے پانچ بڑے محاذوں پر توجہ مرکوز کی ہے، جن میں پیپر لیک اور نوجوانوں کی بے روزگاری، چین اور بنگلہ دیش سے متعلق خارجہ پالیسی، گریٹ نکوبار جیسے بڑے منصوبوں پر سوالات، مہنگائی اور E-20 ایندھن کے باعث گاڑیوں میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابیاں شامل ہیں۔ اس دوران اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا کہ وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ کسی احسان کا نتیجہ نہیں بلکہ نوجوانوں کی جدوجہد کی کامیابی ہے۔ دوسری جانب آر جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج کمار جھا نے نیٹ احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ پولیس زیادتی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
2027 اور 2029 کی سیاسی بساط
سیاست میں وقت اور حالات سب سے مؤثر ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔ نوجوانوں کی ناراضی، اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد اور حکومت کے خلاف منظم سیاسی محاذ بندی نے 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات اور اس کے بعد 2029 کے عام انتخابات کی سیاسی زمین تیار کر دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا اپوزیشن اس طلبہ تحریک کی گرمی کو انتخابی کامیابی میں تبدیل کر پاتی ہے یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں…
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…