قومی

Rahul Gandhi meets Irfan: راہل گاندھی نے محمد عرفان سے کی ملاقات، کہا-’’عرفان جیسے لاکھوں نوجوان ہی ملک کی حقیقی امید، آئین اور جمہوریت پر اس کی سمجھ نے ملک بھر کی توجہ حاصل کرلی‘‘

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر (قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی نے دہلی کی ایک بستی سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد عرفان سے ملاقات کی ہے، جس کے بعد ان کی یہ ملاقات اور عرفان کے خیالات ایک بار پھر عوامی گفتگو کا موضوع بن گئے ہیں۔ راہل گاندھی نے فیس بک پر عرفان کے ساتھ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہلی کی بستی کا ایک ایسا نوجوان ہے، جس کی سوچ اس کے حالات کی محتاج نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ عرفان کی آئین کے بارے میں سمجھ، ملک کے تئیں اس کا نظریہ اور سیکھنے کی اس کی خواہش اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوانوں میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عرفان جیسے لاکھوں نوجوان ہی ملک کی حقیقی امید ہیں۔

سوشل میڈیا کے ایک انٹرویو کے بعد عرفان بنے توجہ کا مرکز

محمد عرفان اس وقت اس لیے بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں کیونکہ جنترمنتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران ایک معروف ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ان کا تفصیلی انٹرویو شائع ہوا تھا۔ اس گفتگو میں عرفان نے آئین، جمہوریت، ملک، شہری حقوق اور اپنے مستقبل کے حوالے سے جس انداز میں اپنے خیالات پیش کیے، اس نے سوشل میڈیا صارفین کو خاصا متاثر کیا۔ عام طور پر دہلی کی بستیوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے بارے میں جو روایتی تصورات قائم کیے جاتے ہیں، عرفان کی گفتگو ان تصورات کو چیلنج کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے خیالات سے یہ تاثر سامنے آیا کہ محدود وسائل یا مشکل حالات کسی نوجوان کی سوچ، سوال کرنے کی صلاحیت اور ملک کے بارے میں اس کے نظریے کی حدود متعین نہیں کرتے۔

حالات سے آگے سوچنے والے نوجوان کی کہانی

محمد عرفان کی گفتگو کا سب سے نمایاں پہلو ان کی تجسس بھری سوچ اور سیکھنے کی خواہش ہے۔ ان کے خیالات نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ملک کے ان لاکھوں نوجوانوں کو اگر بہتر تعلیمی مواقع، مناسب رہنمائی اور اپنی بات رکھنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیے جائیں تو وہ معاشرے اور ملک کی تعمیر میں کس قدر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ راہل گاندھی نے بھی اپنی پوسٹ میں اسی پہلو کو نمایاں کیا۔ ان کے مطابق عرفان کی شخصیت اس بات کی مثال ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کے نوجوانوں میں ہے۔ ان کا پیغام بظاہر صرف ایک نوجوان سے ملاقات تک محدود نہیں بلکہ ان تمام نوجوانوں کی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو مشکل حالات کے باوجود اپنے مستقبل، ملک اور جمہوری نظام کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں۔ عرفان کے معاملے میں سب سے زیادہ توجہ ان کی آئین اور جمہوریت سے متعلق سمجھ نے حاصل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے ان کے خیالات کی تعریف کی اور کہا کہ جمہوریت کی حقیقی روح صرف سیاسی جماعتوں یا پارلیمنٹ تک محدود نہیں، بلکہ عام شہریوں، خصوصاً نوجوانوں کی بیداری سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ عرفان کی گفتگو نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ شہری شعور اور آئینی سمجھ کے لیے کسی خاص سماجی یا معاشی پس منظر کا ہونا ضروری نہیں۔ ایک عام بستی سے تعلق رکھنے والا نوجوان بھی ملک کے آئینی نظام، اپنے حقوق اور شہری فرائض کے بارے میں گہری دلچسپی رکھ سکتا ہے۔

’نوجوان ہی ملک کی اصل امید ہیں‘

راہل گاندھی کی محمد عرفان سے ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں نوجوانوں، تعلیم، روزگار اور جمہوری حقوق سے متعلق مسائل پر سیاسی اور عوامی بحث جاری ہے۔ حالیہ عرصے میں نوجوانوں کے مسائل اور ان کی آواز کو لے کر راہل گاندھی کی سرگرمیاں بھی مسلسل نمایاں رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں عرفان سے ملاقات کو بھی نوجوان نسل کے ساتھ رابطے اور ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس ملاقات کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں عرفان کو صرف کسی سیاسی سرگرمی میں شریک نوجوان کے طور پر نہیں بلکہ اپنی سوچ اور سوالات کے باعث شناخت بنانے والے نوجوان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی کی پوسٹ میں بھی ان کی سماجی حیثیت سے زیادہ ان کی سوچ، آئین کی سمجھ، حساسیت اور سیکھنے کی خواہش کو اہمیت دی گئی ہے۔

محمد عرفان کی کہانی ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ

محمد عرفان کی کہانی یہ سوال بھی سامنے لاتی ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں، چھوٹی بستیوں اور محدود وسائل والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے کتنے نوجوان ایسے ہیں جن کے اندر صلاحیت، جستجو اور سیکھنے کی شدید خواہش موجود ہے، مگر انہیں مناسب مواقع نہیں مل پاتے۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ کے ذریعے عرفان کو ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ہی لاکھوں نوجوان ہندوستان کی حقیقی امید ہیں۔ ان کی نظر میں یہ نوجوان جستجو رکھنے والے، حساس اور اپنے حقوق و فرائض کے تئیں بیدار ہیں۔ عرفان سے راہل گاندھی کی ملاقات اور سوشل میڈیا پر تفصیلی انٹرویو نے ایک عام نوجوان کی آواز کو قومی سطح کی گفتگو کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ ہندوستان کے مستقبل کی بحث صرف بڑے شہروں، یونیورسٹیوں یا سیاسی پلیٹ فارموں تک محدود نہیں، بلکہ ملک کی بستیوں میں رہنے والے وہ نوجوان بھی اس بحث کے اہم کردار ہیں جو اپنے حالات سے آگے دیکھنے اور اپنے ملک، آئین اور جمہوریت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

2 hours ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

3 hours ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

13 hours ago