مرکزی حکومت نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں واضح کیا کہ احمد آباد میں پیش آنے والے ایئر انڈیا بوئنگ ڈریم لائنر طیارہ حادثے کی تحقیقات میں کسی بھی قسم کی تاخیر نہیں ہوئی ہے۔ شہری ہوا بازی کی وزارت نے کہا کہ جانچ مقررہ ضابطوں اور بین الاقوامی طریقۂ کار کے مطابق جاری ہے، اس لیے اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں وزارت نے بتایا کہ بڑے فضائی حادثات کی تحقیقات کئی تکنیکی اور دیگر اہم عوامل پر منحصر ہوتی ہیں۔ ایسے معاملات میں مختلف ممکنہ اسباب کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے، اس لیے حتمی رپورٹ جاری ہونے کے لیے کوئی مقررہ مدت طے نہیں کی جا سکتی۔ وزارت کے مطابق کسی بڑے طیارہ حادثے کی جانچ کب مکمل ہوگی، اس کا پیشگی اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
تمام ممکنہ اسباب کی جامع جانچ جاری
وزارت نے ایوان کو بتایا کہ حادثے کے پس منظر میں موجود تمام ممکنہ وجوہات اور معاون عوامل کی باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تک کسی ایک وجہ کو حادثے کا حتمی سبب قرار نہیں دیا گیا ہے اور جانچ مختلف زاویوں سے آگے بڑھ رہی ہے۔ حکومت نے مزید بتایا کہ تحقیقات کے تحت طیارے کے تھرسٹ کنٹرول ماڈیول کا اصل سازندہ کمپنی (OEM) کی سہولت میں تفصیلی معائنہ کیا جا رہا ہے، جو جاری تحقیقات کا ایک اہم حصہ ہے۔ شہری ہوا بازی کی وزارت نے یاد دلایا کہ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) 12 جون کو پیش آنے والے حادثے کی مکمل شفافیت کے ساتھ تحقیقات کر رہا ہے۔ وزارت کے مطابق اے اے آئی بی نے 12 جولائی 2025 کو ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی تھی، جبکہ بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کے اینیکس-13 کی دفعات کے مطابق 12 جون 2026 کو عبوری بیان بھی جاری کیا گیا۔ حتمی رپورٹ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔
حادثے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے
واضح رہے کہ 12 جون کو احمد آباد سے لندن کے گیٹوک ہوائی اڈے جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI-171، جو بوئنگ 787 ڈریم لائنر تھی، ٹیک آف کے محض 35 سیکنڈ بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ اس سانحے میں طیارے میں سوار 241 مسافروں اور عملے کے ارکان سمیت مجموعی طور پر 260 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ زمین پر موجود 19 افراد بھی جان کی بازی ہار گئے۔ طیارے میں موجود صرف ایک مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ سکا۔
ابتدائی رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
اے اے آئی بی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثے سے قبل طیارے کے دونوں انجن اس وقت بند ہو گئے جب دونوں فیول کٹ آف سوئچ “رن” سے “کٹ آف” پوزیشن میں چلے گئے۔ تاہم کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک پائلٹ نے دوسرے سے کہا تھا کہ اس نے فیول کنٹرول سوئچ بند نہیں کیے تھے۔ اگرچہ حادثے سے کچھ لمحے قبل ان سوئچوں کو دوبارہ “رن” پوزیشن میں لایا گیا، لیکن اس وقت تک طیارے کو سنبھالنا ممکن نہیں رہا تھا۔ مرکزی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اے اے آئی بی کی موجودہ رپورٹ صرف ابتدائی نتائج پر مبنی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری ہونے سے پہلے کسی بھی قسم کے قیاس آرائی پر مبنی نتیجے سے گریز کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…