قومی

Anti Defection Law: اینٹی ڈیفیکشن قانون: دسویں شیڈول پر گھری حکومت؟ سبل کی عرضی پر سپریم کورٹ کا بڑا قدم

سپریم کورٹ نے آئین کے دسویں شیڈول (اینٹی ڈیفیکشن قانون) کی تشریح کو چیلنج کرنے والی سینئر وکیل کپل سبل کی عرضی پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عرضی میں اس قانونی شق پر سوال اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت کسی سیاسی جماعت میں انضمام (مرجر) کے ذریعے اراکینِ اسمبلی اینٹی ڈیفیکشن قانون کے تحت نااہلی سے بچ سکتے ہیں۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ نے معاملے کی سماعت کی اور دلائل سننے کے بعد مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔سماعت کے دوران جسٹس نرسمہا نے استفسار کیا کہ یہ عرضی براہِ راست آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت کیوں دائر کی گئی ہے۔ اس پر کپل سبل نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ نظام ملکی سیاست پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق اس طریقۂ کار کے ذریعے عوام کے دیے ہوئے انتخابی مینڈیٹ کو بعد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس سے اکثریت اقلیت اور اقلیت اکثریت میں بدل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے عوامی مینڈیٹ اور جمہوری نظام دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ سبل نے گوا سے متعلق زیرِ سماعت مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل کے ذریعے انتخابی نتائج کا رخ بدلا جا سکتا ہے۔

ججوں کے ریمارکس

نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود جسٹس نرسمہا نے اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے معاملات پر فیصلہ عام طور پر عوامی نمائندوں کو کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے سوالات پہلے اسمبلی یا مقننہ میں اٹھائے جانے چاہئیں، اور اگر وہاں حل نہ نکلے تو سیاسی جماعتوں کے سامنے رکھے جائیں۔ جسٹس نرسمہا نے کہا کہ دسویں شیڈول کا بنیادی مقصد ارکانِ اسمبلی کے طرزِ عمل کو منظم کرنا ہے، تاہم اس کے عملی اطلاق پر پہلے بھی کئی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس پر کپل سبل نے جواب دیا کہ اقتدار میں موجود لوگ کبھی اس معاملے کا فیصلہ ہونے نہیں دیں گے۔

کپل سبل کے اہم دلائل

کپل سبل نے اپنی عرضی میں دسویں شیڈول کی ایک اہم شق کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے انضمام سے متعلق قواعد کی آئینی تشریح پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام کا فائدہ اٹھا کر چھوٹے گروپ کسی دوسری جماعت میں ضم ہو جاتے ہیں اور اس طرح اینٹی ڈیفیکشن قانون کی سختیوں سے بچ نکلتے ہیں۔سبل نے بتایا کہ اس نوعیت کے کئی مقدمات اس وقت سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں، جن میں شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کی عرضی بھی شامل ہے، جو جسٹس نرسمہا کی بنچ کے سامنے زیرِ غور ہے۔ اس عرضی میں لوک سبھا اسپیکر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں شیو سینا کے بعض ارکانِ پارلیمنٹ کے شندے دھڑے والی شیو سینا میں انضمام کو منظوری دی گئی تھی۔

انضمام کے قوانین پر بڑھتے سوالات

حالیہ عرصے میں عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے متعدد اراکینِ اسمبلی دیگر سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے ہیں، جس کے بعد دلبدل اور جماعتی انضمام سے متعلق قوانین پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔اسی سلسلے میں کانگریس کی ایک عرضی بھی سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے، جس میں بمبئی ہائی کورٹ کی گوا بنچ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ سیاسی جماعت کی منظوری کے بغیر بھی اس کا مقننہ میں موجود پارلیمانی یا اسمبلی گروپ کسی دوسری جماعت میں ضم ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Umar Khalid-Sharjeel Imam: عمر خالد اور شرجیل امام کو بڑا جھٹکا، دہلی ہائی کورٹ نے تیسری ضمانت درخواست بھی کی مسترد

جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ…

2 hours ago

Election Commission Dispute: ’کابینہ سکریٹری کو خط لکھنا پروٹوکول کے خلاف‘، الیکشن کمیشن کے سابق افسر محمد امین کا بڑا دعویٰ

الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان سابق جوائنٹ ڈائریکٹر محمد امین نے…

2 hours ago

PM Narendra Modi: گرین انرجی اسکیم، 2035 تک 900 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کا ہدف حاصل کرنے کی جانب اہم پیش رفت، پی ایم مودی

گرین انرجی کوریڈور فیز-III کو کابینہ کی منظوری، 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل…

3 hours ago

بشیربدر کو اردواکادمی، دہلی نے پیش کیا خراج عقیدت، توسیعی خطبہ و شعری نشست کا انعقاد، سرکردہ شخصیات کی شرکت

پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے…

3 hours ago