قومی

Pappu Yadav Jan Adhikar Party Merge with Congress: پپو یادو کی پارٹی کا کانگریس میں انضمام، اس سیٹ سے لڑ سکتے ہیں الیکشن

Pappu Yadav Jan Adhikar Party Merge with Congress: پپویادو نے اپنی پارٹی جن ادھیکارپارٹی کا کانگریس میں انضمام کردیا ہے۔ لوک سبھا الیکشن سے پہلے سابق رکن پارلیمنٹ نے جن ادھیکارپارٹی کا کانگریس میں انضمام کرنے کا بڑا فیصلہ کیا۔ وہ پورنیہ سیٹ سے لوک سبھا کا الیکشن لڑسکتے ہیں۔ ان کی اہلیہ رنجیتا رنجن کانگریس کی راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ہیں۔ ان کے بٹھے سارتھک یادو بھی کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، پپو یادوکو کانگریس میں شامل کرانے کے پیچھے پرینکا گاندھی نے اہم کردارنبھائی ہے۔

کانگریس میں شامل ہونے کے بعد پپویادو نے راہل گاندھی اورپرینکا گاندھی کی تعریف کی۔ انہوں نے راہل گاندھی کو وزیراعظم بنانے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن ادھیکارپارٹی تین الیکشن لڑی۔ اس میں دو اسمبلی اورایک لوک سبھا الیکشن شامل ہے۔ اس پارٹی نے لمبی جدوجہد کی ہے۔ ہماری پارٹی، خدمت، انصاف اورجدوجہد کے لئے جانی جاتی ہے۔ ہمارا نظریہ کانگریس کی آئیڈیا لوجی کے ساتھ رہی ہے۔ کانگریس کے نظریہ سے ہمیشہ ہمیں توانائی ملتی رہی ہے۔ ہماری سیاست کی بنیاد سیکولررہی ہے۔ کسی بھی مذہب پرکوئی حملہ نہیں۔ ہرحالات میں دوسرے کے نظریات کا احترام میری تاریخ رہی ہے۔

اس سے پہلے منگل کے روزپپویادونے آرجے ڈی چیف لالوپرساد یادواوربہارمیں اپوزیشن لیڈرتیجسوی یادو کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ ملاقات کی تصویرشیئرکرتے ہوئے پپویادو نے کہا کہ گھریلواور خوشگوارماحول میں ملاقات ہوئی۔ مل کربہارمیں بی جے پی کو صفرپرآؤٹ کرنے کی حکمت عملی پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ بہارمیں انڈیا الائنس کی مضبوطی، سیمانچل، کوسی، متھلانچل میں 100 فیصد کامیابی کا ہدف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  Congress-JMM Seat Sharing: جھارکھنڈ میں کانگریس اور JMM میں سیٹوں کا فارمولہ فائنل، کس کے حصے میں گئیں کتنی سیٹیں؟

کیا ہے کہ عظیم اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم کا فارمولہ؟

واضح رہے کہ گرینڈ الائنس یا عظیم اتحاد میں ابھی تک سیٹوں کی تقسیم نہیں ہوسکی ہے۔ اب تک کے فارمولے کو دیکھیں تو آرجے ڈی 28، کانگریس 9 اور لیفٹ پارٹیاں 3 سیٹوں پرالیکشن لڑسکتی ہیں۔ پپویادو کو کانگریس ہی سیٹ دے گی۔ وہیں اگرپشوپتی پارس اوروکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے سربراہ مکیش سہنی انڈیا الائنس میں شامل ہوتے ہیں تو حالات میں تھوڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ قابل ذکرہے کہ این ڈی اے میں نا تو پشوپتی پارس کی بات بنی ہے اورنہ ہی مکیش سہنی کی بات بن سکی۔ دونوں کو سائیڈ لائن کردیا گیا ہے۔ ایسے میں یہ مانا جا رہا ہے کہ پشوپتی پارس اورمکیش سہنی آج کل میں بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ سب کی نظریں ان دونوں پرمرکوز ہیں۔

 بھارت ایکسپریس۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Jamia Millia Islamia ِStudent Protest: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات پر تعطل برقرار، 17ویں روز بھی احتجاجی مظاہرہ جاری

کشیدگی کے پیش نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کورسز کی کلاسیں آن لائن کر دی…

10 minutes ago

Adani Ports : اڈانی پورٹس کی آمدنی میں دوسری سہ ماہی کے دوران 24 فیصد اضافہ

مالی سال 2027 کی پہلی ششماہی، یعنی اپریل سے ستمبر کے دوران، کمپنی کی آمدنی…

36 minutes ago

UP MLC Election Results: یوپی ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی نے 5 اور سماج وادی پارٹی نے 3 نشستیں جیتیں، وارانسی میں بی جے پی کو جھٹکا

وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے وارانسی میں سماج وادی پارٹی نے ٹیچر حلقے…

2 hours ago

Prayagraj Film Festival 2026: سنگم نگری میں سنیما کا میلہ، 30 اکتوبر سے پریاگ راج فلم فیسٹیول کا آغاز، نوجوان فنکاروں کو ملے گا پلیٹ فارم

منتظمین کے مطابق، اچھی فلم بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی احساسات اور…

4 hours ago