قومی

Chidambaram slams govt: دس فیصد امریکی ٹیرف کا خیرمقدم کرنے والوں پر پی چدمبرم کی سخت تنقید،  ٹرمپ پر’’ٹیرف کی ہتھیار بندی‘‘ کا الزام

 

کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن پی چدمبرم نے ہفتہ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامیوں اور ان معاشی مبصرین کو تنقید کا نشانہ بنایا جو امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر عائد 10 فیصد ٹیرف کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ’’ٹیرف کی ہتھیار بندی‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کا مطالبہ کیا۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں پی چدمبرم نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے تجارتی پالیسی کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد صدر ٹرمپ 10 فیصد ٹیرف دوبارہ نافذ کرنے کے لیے بے چین دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیرت اس بات پر ہے کہ کچھ مبصرین اور بی جے پی نواز عناصر بالواسطہ طور پر امریکہ کے اس اقدام کا جواز پیش کر رہے ہیں، حالانکہ یہ ٹیرف ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت سے پہلے کے تقریباً 3 فیصد اوسط ٹیرف سے کہیں زیادہ ہے۔ پی چدمبرم نے لکھا کہ یہ ٹیرف عالمی تجارتی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بھارت کی امریکہ کو برآمدات کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی تمام ممالک نے ٹیرف کی ’’ہتھیار بندی‘‘ کی مذمت کی تھی اور اب بھی اس اقدام کی مذمت ہونی چاہیے۔

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر سوال

ایک اور پوسٹ میں کانگریس رہنما نے بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے فریم ورک پر سوال اٹھاتے ہوئے صدر ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ بھارت کو برآمدات پر ٹیرف ادا نہیں کرے گا جبکہ بھارت کو امریکی ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔ پی چدمبرم نے سوال کیا کہ کیا یہی وہ باہمی تعاون ہے جس کی یقین دہانی 2 فروری 2026 کے مشترکہ بیان میں کرائی گئی تھی؟ کیا یہی وہ کامیابی ہے جس کا بھارتی حکومت نے جشن منایا تھا؟

امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ اور نیا حکم

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کو ٹرمپ کی بیشتر جامع ٹیرف پالیسیوں کے خلاف فیصلہ دیا۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک نیا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے تقریباً فوری طور پر تمام ممالک پر 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق بھارت کو بھی یہ 10 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا اور یہ اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک کوئی دوسرا قانونی اختیار استعمال نہ کیا جائے۔

مرکزی حکومت کا ردعمل

مرکزی وزارت تجارت و صنعت نے ہفتہ کے روز ایک مختصر بیان میں کہا کہ وہ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے اور صدر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اعلان کردہ اقدامات کے مضمرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت تمام پیش رفت کا بغور مطالعہ کر رہی ہے تاکہ اس کے ممکنہ اثرات کو سمجھا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Sports News: ویسٹ انڈیز نے تاریخی ہدف حاصل کرکے ریکارڈز کی جھڑی لگا دی، شائی ہوپ کے نام بھی بڑی کامیابی

دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…

3 hours ago

LG Swaraj Dweep visit: ایل جی ڈاکٹر دنیش شرما کا دورہ جزائر انڈمان و نکوبار: ہاپ آن ہاپ آف بس سروس کا آغاز اور اہم اعلانات

جزائر انڈمان اور نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے سوراج دیپ کا دو…

4 hours ago

PMEGP Scheme: پی ایم ای جی پی اسکیم سے کامیاب کاروبار کھڑا کیا، شاکر خان بنے کئی لوگوں کے لیے روزگار فراہم کرنے والے

مرکزی حکومت کی وزیر اعظم روزگار تخلیق پروگرام اسکیم سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو…

5 hours ago