قومی

Owaisi condemns violence in Bangladesh: اسدالدین اویسی نے بنگلہ دیش میں تشدد کی سخت الفاظ میں کی مذمت، اقلیتوں کے تحفظ پر دیا زور

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بنگلہ دیش میں حالیہ پرتشدد واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقلیتوں کے تحفظ کی پرزور اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں امن و استحکام نہ صرف وہاں کے شہریوں بلکہ پورے خطے، خاص طور پر بھارت کی سلامتی کے لیے بے حد ضروری ہے۔

بنگلہ دیش میں ہلاکتوں کی سخت مذمت

اویسی نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی بنگلہ دیش میں دیپو چندر داس اور امرت مونڈل کے قتل کی سخت مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم، حکومت ہند کی جانب سے بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔

بنگلہ دیش کی سیکولر بنیادوں کا حوالہ

اسدالدین اویسی نے کہا کہ بنگلہ دیش کی بنیاد سیکولر بنگالی قوم پرستی پر رکھی گئی تھی اور وہاں تقریباً دو کروڑ ایسے شہری آباد ہیں جو مسلمان نہیں ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوگا اور بنگلہ دیش میں پیش آنے والے حالیہ واقعات اس کے آئینی اقدار کے منافی ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ محمد یونس اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ بنگلہ دیش میں رہنے والی تمام اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

علاقائی سلامتی اور بیرونی طاقتوں کا ذکر

اویسی نے کہا کہ بنگلہ دیش میں استحکام بھارت، خصوصاً شمال مشرقی ریاستوں کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ایک عوامی انقلاب برپا ہو چکا ہے اور امید ہے کہ فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئی ایس آئی، چین اور بھارت مخالف قوتیں خطے میں سرگرم ہیں، جن پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

بھارت میں تشدد کے واقعات پر تشویش

بنگلہ دیش کے ساتھ ساتھ اویسی نے بھارت میں ہونے والے پرتشدد واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے اڈیشہ کے سنبل پور میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور کی لنچنگ اور اتراکھنڈ میں ایم بی اے کے ایک قبائلی طالب علم اینجَل چکما کی مبینہ مارپیٹ کے بعد موت کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب قانون کی حکمرانی کمزور ہو جائے اور اکثریتی سیاست غالب آ جائے تو اس طرح کے واقعات جنم لیتے ہیں، جن کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے۔

دیپوچندرداس کا معاملہ؟

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے اخبار ڈیلی اسٹار کے مطابق، امرت مونڈل کو مبینہ طور پر بھتہ خوری کے الزام میں ہجوم نے قتل کیا تھا، جبکہ دیپو چندر داس کو مبینہ توہین مذہب کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا پر کسی توہین آمیز پوسٹ کے شواہد نہیں ملے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Seva Sankalp Bike Yatra update: وزیر داخلہ امت شاہ گجرات کے وڈ نگر سے کاشی میں بائیک سواروں کا کریں  گے استقبال اور اختتامی تقریب میں کریں گے شرکت

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جالھوپور میں واقع قومی فرانزک سائنس یونیورسٹی کا افتتاح بھی…

27 minutes ago

Saayoni Ghosh Statement: ’’راہل گاندھی کی قیادت میں ٹی ایم سی کے ساتھ جڑے کانگریس‘‘، سایونی گھوش کا مشورہ

این سی پی آئی کی رکن پارلیمنٹ سایونی گھوش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے…

3 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: نوجوانوں کو بڑا تحفہ، 20ویں روزگار میلے میں 51 ہزار سے زائد نوجوانوں کو پی ایم مودی دیں گے تقرری نامے

20ویں روزگار میلے میں منتخب کیے گئے 51 ہزار سے زائد نوجوان بھارت سرکار کی…

3 hours ago