قومی

Opposition Unity 2024: بہار میں ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ میں شرکت کریں گے عمر عبداللہ، اتحاد سے متعلق دیا بڑا مشورہ

Opposition Unity 2024: جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے چھوٹی جماعتوں کو عظیم اتحاد میں شامل ہونے سے متعلق بڑی بات کہی ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر میں نشیلی دواؤں کی تجارت اور نشیلی دواؤں کے غلط استعمال سے متعلق تبادلہ خیال کرنے کے لئے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں ایک میٹنگ کے بعد میڈیا کو خطاب کر رہے تھے۔

عمرعبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 23 جون کو پٹنہ بہار میں ہونے والی میٹنگ میں شامل ہوگی، لیکن میٹنگ میں خاموش رہے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم پٹنہ جاکرسنیں گے کہ بڑی جماعتوں کے اتحاد سے متعلق مثبت خیالات سے متعلق کیا کہنا ہے۔ ہم ایک چھوٹی پارٹی ہیں اور اگر ہم سبھی 6 سیٹیں (جموں وکشمیر میں 5 اور لداخ میں ایک) جیت جاتے ہیں توبھی ہمارا حکومت کی تشکیل پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔‘‘

ٹی ایم سی، ڈی ایم کے اوردیگر پارٹیوں پر تنقید

عمرعبداللہ نے کہا، ’’بڑی پارٹیوں کو پہلے اتحاد بنانا اور کرنا ہے، جو 200 سیٹیں یا 50 اور 40 سیٹوں پرالیکشن لڑ رہے ہیں۔ انہیں چھوٹی جماعتوں کے مطالبہ سے پہلے اتحاد کے ساتھ آنے دیں۔‘‘ عمرعبداللہ نے نام لئے بغیرٹی ایم سی، ڈی ایم کے اور دیگر پارٹیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم اپوزیشن اتحاد کی بات کرتے ہیں تو بنگال کی پارٹی گوا میں اور تمل ناڈو کی ایک پارٹی دہلی میں کیوں الیکشن لڑتی ہے۔ کچھ جماعتیں ایسی ہیں، جن کا جموں وکشمیر میں کوئی کارکن نہیں ہے اور وہ یہاں الیکشن لڑنا چاہتی ہیں۔

اس سے کیا پیغام جائے گا؟

عمرعبداللہ نے کہا، ’’اس طرح کے اقدامات سے کسی کی مدد نہیں ہوتی ہے۔ یہ کس طرح کا اتحاد ہوگا اوراس سے کیا پیغام جائے گا؟‘‘ جموں وکشمیرمیں اسمبلی الیکشن کرانے میں مسلسل تاخیر ہونے پرعمرعبداللہ نے کہا، ’’مرکزکے زیرانتظام ریاست میں سب کچھ مشکل میں ہے اورحکومت یہ اچھی طرح سے جانتی ہے، اس لئے وہ جموں وکشمیرمیں الیکشن نہیں کرانا چاہتے ہیں۔‘‘

جموں وکشمیر میں لوک سبھا الیکشن کے ساتھ الیکشن ہونے دیں

جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا، ’’اگرجموں وکشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے تو حکومت کو یقین ہوتا کہ انہوں نے علاقے کی ترقی کی ہے۔ ان کولگتا ہے کہ سبھی پریشانیوں کو حل کیا گیا۔‘‘ انہوں نے حکومت کو چیلنج دیتے ہوئے مزید کہا ’’اگر وہ (بی جے پی) جو دعویٰ کر رہے ہیں، وہ سچ ہے تو انہیں جموں وکشمیر میں پارلیمانی انتخابات کے ساتھ اسمبلی انتخابات کرانے دیں اور دنیا حقیقت دیکھے گی۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

6 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

7 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

8 hours ago