سیاست

Maharashtra Politics: ایکناتھ شندے کے سروے والے اشتہار سے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل تیز،ادھوٹھاکرے گروپ اور بی جے پی کا بڑا بیان

Maharashtra Politics: مہاراشٹر میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ اس سے پہلے ایک اشتہار کو لیکر سی ایم ایکناتھ شندے کی شیوسینا اور بی جے پی کے مابین سب کچھ صحیح نہیں چلنے کے قیاس لگائے جارہے ہیں ۔ مہاراشٹر کے اخباروں میں شائع ایک اشتہار نے اس تنازعہ کو جنم دیا ہے۔ یہ اشتہار شندے گروپ کی طرف سے دیا گیا ہے ، اس میں ایک سروے کے ذریعے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مہاراشٹر میں سی ایم ایکناتھ شندے، دیوندر فڑنویس سے زیادہ مقبول اور پسندیدہ رہنما ہیں۔ سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کو وزیراعلیٰ کے عہدے کیلئے 26.1 فیصدی لوگ پسند کررہے ہیں جبکہ فڑنویس کو 23.2 فیصد لوگ پسند کررہے ہیں ۔ وہیں ریاست میں بی جے پی کو پسند کرنے والے لوگوں کی تعداد 30.2 فیصدی بتائی گئی ہے۔ جبکہ شندے کی پارٹی کو 16.2 فیصد اور دونوں کے اتحاد کو 46.4 فیصد لوگ پسند کررہے ہیں ۔

اشتہار پر سیاسی رسہ کشی
اخبارات میں شائع مکمل ایک صفحہ کے اس اشتہار نے مہاراشٹر کے سیاسی ماحول میں ایک بار پھر گرماہٹ پیدا کردی ہے۔ اب اس معاملے پر بیشترجماعتوں کے رہنما بیانات جاری کررہے ہیں ۔ اس اشتہار پر شیو سینا ادھوٹھاکرے کے رہنما سنجے راوت نے کہا کہ یہ اشتہار کڑوروں روپئے خرچ کرکے تیار کیا گیا ہے۔ ایکناتھ شندے شیوسینا کے مکھیہ بالا صاحب ٹھاکرے کو بھول چکے ہیں ۔ شیو سینا نے اپنا بلبلہ پھوڑ دیا ہے۔ اشتہار میں شیو سینا سربراہ بالا صاحب ٹھاکرے کی تصویر نہیں لی گئی ہے ۔ مودی – شاہ سے اتنا خوف؟ باقی سروے… فڑنویس آپ کا پسندیدہ سبجیکٹ ہے۔

شیوسینا کی طرف سے وضاحت
حالانکہ سیاسی گہماگہمی کے بیچ شیوسینا نے اس کو کم کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ شیو سینا کے رہنما اور مہاراشٹر سرکار میں وزیر دیپک کیسکر نے اشتہار کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘ غلطی سے کسی اشتہار میں ایسا ہوگیا ہوگا۔ اگر ہم میں کوئی اختلاف ہوتا تو ہم ساتھ کیوں بیٹھتے؟ اس میں شندے کو بڑا بنانے کے بارے میں نہیں سوچا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں 180 سیٹوں پر شیو سینا اور بی جے پی متحدہ طور پر لڑے گی۔

اشتہار پر بی جے پی کا بیان
شندے کو پسندیدہ رہنما بتانے والے اشتہار پر بی جے پی صدر چندر شیکھر باونکولے نے کہا ہے کہ ہمیشہ انتخابات سے ہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ رائے دہندگان کو کون پارٹی اور کون رہنما پسند ہیں۔ پہلے شندے کابینہ میں وزیر کے طور پر مقبول تھے اور اب وزیراعلیٰ کے بطور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کی عوام کو فڑنویس ، شندے اور پی ایم مودی سے بہت ساری امیدیں ہیں۔

ایکناتھ شندے پر کانگریس کی تنقید
کانگریس کی مہاراشٹر اکائی کے چیف ترجمان اتل لونڈے نے اسے مکمل طور پر جھوٹا سروے قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ شندے نے اپنی تشہیر کیلئے اس کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب ہوجائے تو ایم وی اے یقینی طور پر مہاراشٹر کی 42 سے زائد پارلیمانی سیٹیں اور 200 سے زائد اسمبلی کی سیٹیں جیتے گی۔ پھر شندے کے بارے میں ایک نئی کہانی لکھی جائے گی کہ ‘ ایک وقت میں کوئی شندے ہوتے تھے’۔۔۔۔۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

5 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

6 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

6 hours ago