راجیہ سبھا میں جمعہ کی صبح وقف بل منظور ہونے سے چند گھنٹے قبل مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات کو الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ’’ملک کو تقسیم کرنے‘‘ کے لیے یہ بل لائی ہے۔ ممتا بنرجی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جب ’’موجودہ حکومت کے بعد نئی حکومت قائم ہوگی‘‘ تو وہ اس بل کو ختم کر دے گی۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا ’’یہ بل زبردستی منظور کیا گیا ہے۔ لیکن ایک دن یہ جائیں گے اور نئی حکومت آئے گی۔ تب یاد رکھیے کہ ایک اور ترمیم کی جائے گی اور اسے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کیا جائے گا۔
اس سے پہلے بدھ کے روز ممتانے بی جے پی کو اس کے ’’تقسیم کے ایجنڈے‘‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا ’’میرے ممبران پارلیمنٹ وقف کے مسئلہ پر بات کرنے کے لئے دہلی میں ہیں۔ ‘جملہ پارٹی’ کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے -ملک کو تقسیم کرنا۔ وہ ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ میں یقین رکھتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ وقف (ترمیمی) بل کو 12 گھنٹے کی میراتھن بحث کے بعد جمعرات کی صبح لوک سبھا نے منظور کر لیا تھا۔ بعد میں راجیہ سبھا میں بھی اسے منظوری دے دی گئی۔ حکمراں این ڈی اے نے اس بل کا سختی سے دفاع کرتے ہوئے اسے اقلیتوں کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’مسلم مخالف‘‘ قرار دیا ہے۔
اس دوران کانگریس نے وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس کے علاوہ ڈی ایم کے اور دیگر سیاسی و ملی تنظیموں نے بھی سپریم کورٹ کا رخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثنا ملک کے مختلف حصوں میں حکومت نے اس کے خلاف ممکنہ مظاہروں کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کر رکھے ہیں۔ دہلی کے حساس علاقوں مثلاً شاہین باغ اور جامعہ نگر میں بھاری تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…