وقف قانون سے متعلق آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔
نئی دہلی: وقف ترمیمی قانون 2025 کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج مرکزی حکومت کونوٹس جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی آج کی سماعت مکمل ہوگئی اورکل (17 اپریل) کوبھی اس معاملے پر سماعت ہوگی۔ عدالت نے حکومت سے نئے قانون کے کئی التزام، خصوصاً وقف بائی یوزر جائیدادوں کے التزام سے متعلق سخت سوال پوچھا ہے۔ عدالت نے سینٹرل وقف کونسل میں غیر مسلموں کوشامل کرنے کے التزام پر بھی سوال اٹھائے اورحکومت سے پوچھا کہ کیا وہ مسلمانوں کوہندوبورڈ کا حصہ بننے کی اجازت دے گی۔ آپ کوبتادیں کہ سپریم کورٹ میں وقف قانون سے متعلق 73 عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ وہیں حکومت کی طرف کیویئیٹ داخل کی گئی تھی کہ اس معاملے پرحکومت کا موقف جانے بغیرکوئی فیصلہ صادرنہ کیا جائے۔
عدالت نے تبصرہ کیا ہے کہ وقف بورڈ میں سابق ممبران کے علاوہ صرف مسلم ممبران ہونے چاہئیں، جس کی سالیسٹرجنرل تشار مہتا نے مخالفت کی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے آج کوئی فیصلہ صادرنہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی کسی بورڈ کی مدت ختم نہیں ہورہی ہے۔ پی آئی ایل کی درخواستوں کی سماعت کے بعد اس طرح کے احکامات نہیں دیئے جانے چاہئیں۔ یہاں کوئی وقف بورڈ نہیں آیا ہے۔
چیف جسٹس نے آغازمیں درخواست گزاروں سے کہا کہ دوسوالوں پرغورکیا جائے۔ پہلے کیا سپریم کورٹ درخواستیں ہائی کورٹ کو بھیجے گی؟ اوردرخواست گزارکن نکات پر بحث کرنا چاہتے ہیں؟ سینئروکیل کپل سبل نے درخواست گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ نئے قانون میں کئی دفعات آئین کے آرٹیکل 26 کی خلاف ورزی کرتی ہیں، جو مذہبی امورکومنظم کرنے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک منو سنگھوی اورراجیو دھون بھی نے بھی عدالت میں دلیلیں دیں، جن کوعدالت نے سنا۔ کپل سبل نے نئے قانون سے کلکٹرکو دیئے گئے اختیارات پربھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے ترک دیا کہ کلکٹرحکومت کا ایک حصہ ہے اوراگروہ جسٹس کا کردار نبھاتا ہے تو یہ غیرآئینی ہے۔
جب سپریم کورٹ میں سماعت ختم ہونے والی تھی تو عدالت نے اشارہ دیا کہ وہ دو حکم دینے جا رہی ہے جبکہ سماعت ابھی باقی ہے۔ سابق ممبران کے علاوہ وقف بورڈ کے تمام ممبران مسلمان ہونے چاہئیں۔ وقف ایکٹ کی مخالفت کرنے والوں کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ جو وقف صارف کے ذریعہ رجسٹرڈ نہیں ہے، اسے ڈی نوٹیفائی کردیا جائے گا، یعنی اب وہ وقف نہیں رہے گا۔ اس پرسپریم کورٹ نے کہا کہ جب تک سماعت زیرالتوا ہے، حکومت ایسا کوئی کام نہیں کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بس کالیکا انگلش بورڈنگ اسکول کی تھی۔کاسکی ضلع پولیس دفتر کے سربراہ پولیس سپرنٹنڈنٹ نوین…
بسپا سربراہ نے کانشی رام کے مہاپری نروان دیوس پر خراج عقیدت پیش کیا، اتر…
اداکارہ نے نانا پاٹیکر پر لگائے گئے اپنے الزامات پر قائم رہنے کی بات کہی،…
مدورانتکم اور دھاراپورم دونوں اسمبلی سیٹوں پر ٹی وی کے امیدوار آگے، مئی میں حکومت…
پونے کے فارم ہاؤس میں اداکار کی آخری رسومات ادا کی گئیں، ترنگے میں لپٹے…
راہل گاندھی نے ایلون مسک کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا تھا، ’’ایلون، بھارت…