نئی دہلی: نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ امتحانات کی شفافیت اور سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے 2026 سے تمام داخلہ امتحانات میں فیشیل بایومیٹرک یعنی ڈیجیٹل طریقے سے چہرے کی تصدیق اور درخواست کے مرحلے پر لائیو فوٹوگرافی نافذ کی جائے گی۔ اس نظام کا آغاز جنوری 2026 میں جے ای ای (مینز) سے ہوگا۔
امتحانی سکیورٹی مضبوط بنانے کی سمت اہم قدم
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد جعل سازی، فرضی امیدواروں کی شمولیت اور دیگر بے ضابطگیوں پر قابو پانا ہے، تاکہ امتحانی عمل کے مختلف مراحل میں امیدوار کی شناخت کی فوری اور درست تصدیق ممکن ہو سکے۔
جنوری 2026 سے جے ای ای (مینز) میں نفاذ
اعلیٰ تعلیم کے سکریٹری ونیت جوشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’’درخواست داخل کرنے کے دوران لائیو فوٹوگرافی اور امتحان کے وقت فیشیل ریکگنیشن سسٹم نافذ کیا جائے گا۔ اس پر عمل درآمد جنوری سے جے ای ای (مینز) کے ساتھ شروع ہوگا۔‘‘
فیشیل بایومیٹرک تصدیق کیا ہے؟
فیشیل بایومیٹرک تصدیق میں چہرے کی منفرد ساخت، جیسے آنکھوں کے درمیان فاصلہ یا ناک کی بناوٹ، کا تجزیہ کر کے ڈیجیٹل ٹیمپلیٹ تیار کیا جاتا ہے۔ اس ٹیمپلیٹ کو محفوظ ڈیٹا سے ملا کر شناخت کی تصدیق کی جاتی ہے، جس میں اکثر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال ہوتا ہے۔
لائیو فوٹوگرافی سے جعل سازی کی روک تھام
آن لائن درخواست یا امتحانی عمل کے دوران ویب کیم یا موبائل کے ذریعے حقیقی وقت میں تصویر لی جاتی ہے، تاکہ کسی دوسرے شخص کے امتحان دینے یا درخواست داخل کرنے کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔
جے ای ای (مین) 2026 کا شیڈول
این ٹی اے کے زیر اہتمام جے ای ای (مین) 2026 کا انعقاد 21 جنوری سے 30 جنوری 2026 کے درمیان کیا جائے گا۔
این ٹی اے اور اس کے اہم امتحانات
2017 میں قائم ہونے والی این ٹی اے ملک کے بڑے داخلہ امتحانات منعقد کرتی ہے، جن میں انجینئرنگ کے لیے جے ای ای (مین)، طب کے لیے نیٹ (انڈر گریجویٹ) اور مرکزی یونیورسٹیوں کے انڈرگریجویٹ و پوسٹ گریجویٹ کورسز کے لیے سی یو ای ٹی شامل ہیں۔
رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارشات
یہ اقدامات رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارشات کا حصہ ہیں، جو نیٹ-یو جی 2024 میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔ حکومت کی جانب سے مقرر سات رکنی کمیٹی نے داخلہ امتحانی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی تجویز دی ہے، جن میں ڈیجیٹلائزیشن، سکیورٹی اور عمل کو آسان بنانا شامل ہے۔
دو مرحلوں پر مشتمل اصلاحاتی منصوبہ
سابق اسرو چیف آر۔ رادھا کرشنن کی قیادت میں کمیٹی نے دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ پیش کیا ہے۔ پہلے مرحلے (قلیل مدتی) میں این ٹی اے کی تنظیم نو اور کثیر سطحی بایومیٹرک تصدیق (رجسٹریشن، امتحانی مرکز اور کاؤنسلنگ) شامل ہے، جبکہ دوسرے مرحلے (طویل مدتی) میں ’’ڈیجی-ایگزام‘‘ پلیٹ فارم کے ذریعے بایومیٹرک بنیادوں پر ڈیجیٹل امتحانات کے نفاذ کی تجویز پیش کی گئی ہے، جو ڈیجی یاترا کی طرز پر ہوگا۔
امتحانی نظام کو محفوظ اور شفاف بنانے کا ہدف
کمیٹی نے رجسٹریشن سے لے کر داخلہ تک ہر مرحلے پر کثیر سطحی بایومیٹرک تصدیق کی سفارش کی ہے، تاکہ امتحانی نظام کو زیادہ محفوظ، شفاف اور جعل سازی سے پاک بنایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راہل گاندھی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ کے دفتر نے ان کے…
ملازمین کے مستقبل فنڈ (ای پی ایف) اور ایمپلائیز پنشن اسکیم (ای پی ایس) دونوں…
امت شاہ نے اپنے پیغام میں راج ماتا کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں…
دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور متعدد مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی…
اس مہم کے دوران بچوں کی صحت اور ان کی غذائی حالت کا جائزہ لینے…
نوراتری کے دوسرے دن عقیدت مند دیوی کو پھولاور روایتی بھوگ پیش کرتے ہیں اور…