بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے شمالی اور وسطی بھارت کے کئی حصوں کے لیے موسم کی سنگین وارننگ جاری کی ہے۔ آئندہ تین دنوں تک ملک کی کم از کم 8 ریاستوں میں گھنے سے بہت گھنے کہرے کے چھائے رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے سب سے زیادہ اثرات سڑک، ریل اور فضائی آمدورفت پر پڑنے کی توقع ہے۔
ان ریاستوں میں کہرے کا قہر دیکھنے کو ملے گا
محکمۂ موسمیات کے مطابق پنجاب، ہریانہ، مغربی اتر پردیش اور شمالی مدھیہ پردیش میں 22 دسمبر تک انتہائی گھنا کہرا چھائے رہنے کا امکان ہے۔ وہیں مشرقی اتر پردیش کے علاقوں میں 23 دسمبر تک کہرے کا اثر برقرار رہے گا۔ اس کے علاوہ بہار، جھارکھنڈ اور اڑیسہ کے اندرونی حصوں میں 24 دسمبر تک لوگوں کو گھنے کہرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹریفک پر براہِ راست اثر
حدِ نگاہ (ویژیبلیٹی) کم ہونے کی وجہ سے طویل فاصلے کی ٹرینوں اور پروازوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ کہرے کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی رفتار سست ہو جائے گی، جس سے دفتر جانے والوں اور مسافروں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انتظامیہ نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ گھر سے نکلنے سے پہلے اپنی ٹرین یا فلائٹ کی صورتحال ضرور چیک کر لیں۔
محفوظ سفر کے لیے ضروری ہدایات
گھنے کہرے کے دوران سڑک پر گاڑی چلاتے وقت خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ ڈرائیوروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ گاڑی کی رفتار کم رکھیں اور فاگ لائٹس کا استعمال کریں۔ ڈرائیونگ کے دوران ہائی بیم لائٹس استعمال نہ کریں، کیونکہ اس سے کہرے میں روشنی پھیل جاتی ہے اور سامنے کا راستہ دیکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
محکمۂ موسمیات کی وارننگ
آئی ایم ڈی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ مقامی موسمی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔ خاص طور پر رات اور صبح کے اوقات میں، جب کہرا سب سے زیادہ گھنا ہوتا ہے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی کوشش کریں۔ آئندہ چند دن شمالی ہند کے لیے ’خطرناک‘ ثابت ہو سکتے ہیں، اس لیے احتیاط ہی بہترین بچاؤ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…