قومی

No work just rhetoric: ’کام نہیں، صرف بیان بازی‘، آلودگی کے معاملے پر بی جے پی صدر کا عام آدمی پارٹی پر بڑا حملہ

دہلی کی سیاست میں آلودگی (Pollution) پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور عام آدمی پارٹی (عآپ) کے درمیان اس سنگین مسئلے پر زبانی جنگ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اسی سلسلے میں اب دہلی بی جے پی کے صدر وریندر سچدیوا نے اتوار کو عآپ کے لیڈر سوربھ بھاردواج پر سخت حملہ کرتے ہوئے ان پر آلودگی کے معاملے میں ’ڈرامہ بازی‘ اور غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے کا الزام عائد کیا۔

’عام آدمی پارٹی نے عوام کی صحت کو خطرے میں ڈالا‘

بی جے پی صدر وریندر سچدیوا نے کہا کہ جب کیجریوال کی قیادت والی دہلی حکومت میں سوربھ بھاردواج وزیر صحت تھے، اس دوران عام آدمی پارٹی کی حکومت نے عوام کی صحت کو خطرے میں ڈالا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دس برس سے زائد عرصے تک آلودگی پر قابو پانے کے لیے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا۔ سچدیوا کے مطابق، بھاردواج کے دورِ وزارت میں دہلی حکومت کے اسپتالوں میں نقلی ادویات کی تقسیم کے معاملات سامنے آئے، جبکہ محلہ کلینک بدعنوانی کے مراکز بن گئے۔

عوامی مفاد میں سنجیدگی ضروری

وریندر سچدیوا نے یہ بھی کہا کہ کام نہ کرنے اور اب محض بیان بازی کے ذریعے توجہ ہٹانے کی کوشش سے اروند کیجریوال اور سوربھ بھاردواج دونوں اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ان لیڈروں کو غیر ضروری تبصروں سے گریز کرتے ہوئے دہلی کے عوام کے مفاد میں سنجیدگی سے سوچنے اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

پالیسیوں پر بحث کے بجائے چھوٹی سیاست

ادھر، ہفتے کے روز دہلی کے وزیرِ صحت و ٹرانسپورٹ پنکج کمار سنگھ نے بھی اپوزیشن کو ہدفِ تنقید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے کام کاج اور پالیسیوں پر بحث کرنے کے بجائے اپوزیشن جماعتیں ذاتی حملوں اور توہین آمیز پوسٹروں کے ذریعے چھوٹی سیاست کر رہی ہیں۔ پنکج کمار سنگھ نے واضح کیا کہ دہلی کے عوام ایسی سطحی سیاست سے گمراہ ہونے والے نہیں ہیں اور وہ ترقی اور اچھی حکمرانی کے مسائل کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن کی سابقہ حکومتوں نے واقعی دہلی کے عوام کے مفاد میں کام کیا ہوتا تو آج حالات کہیں بہتر ہوتے، لیکن بدقسمتی سے ان کی ترجیح عوام نہیں بلکہ اپنے سیاسی مفادات رہے ہیں۔

ایسے میں بڑا سوال یہ ہے کہ  اگر حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے اپوزیشن کو ہدف تنقید بناتی رہے گی تو پھر دہلی میں آلودگی سے بد سے بدتر ہوتے حالات سے عوام کو کیسے راحت ملے گی اور کب آلوگی کے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے؟

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

9 hours ago