قومی

No internal democracy in Congress: ’’کانگریس میں اندرونی جمہوریت نہیں، راہل گاندھی کا فیصلہ ہی آخری ہوتا ہے‘‘ سابق کانگریسی رہنما شکیل احمد کا بڑا الزام

نئی دہلی: کانگریس کے سابق رہنما شکیل احمد نے پارٹی کی مسلسل انتخابی ناکامیوں پر راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس میں نہ تو اندرونی جمہوریت باقی رہی ہے اور نہ ہی قیادت مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے کو تیار ہے۔ اے این آئی سے خصوصی گفتگو میں شکیل احمد نے کہا: ’’کانگریس پارٹی میں اندرونی جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جو کچھ راہل گاندھی کہتے ہیں، وہی آخری فیصلہ ہوتا ہے۔‘‘

انتخابی ناکامیوں پر قیادت کو ذمہ دار قرار دیا

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا: ’’اگر راہل گاندھی چاہیں بھی تو کانگریس کو دوسرے نمبر سے نیچے نہیں لے جا سکتے، کیونکہ باقی تمام پارٹیاں صرف ایک ایک ریاست تک محدود ہیں۔‘‘ ان کے مطابق پارٹی کی مسلسل شکست کی بنیادی وجہ اعلیٰ قیادت کی نااہلی ہے۔ شکیل احمد نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی سینئر اور مقبول رہنماؤں کے ساتھ کام کرنے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’کانگریس میں کئی ایسے لیڈر ہیں جو راہل گاندھی کے سیاست میں آنے سے بہت پہلے سے سیاست کر رہے ہیں۔ جس دن راہل گاندھی نے اپنا پہلا انتخاب جیتا، اس دن میں اپنا پانچواں انتخاب جیت چکا تھا۔‘‘

نہرو۔گاندھی خاندان کی وجہ سے برتری کا احساس

انہوں نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کو اپنے نہرو۔گاندھی خاندان سے تعلق کی وجہ سے برتری کا احساس ہے۔ شکیل احمد کے مطابق: ’’جب میں انہیں مشورہ دیتا تھا تو وہ اسے ناپسند کرتے تھے، جیسے انہیں لگتا ہو کہ میں کون ہوتا ہوں انہیں سمجھانے والا، وہ نہرو۔گاندھی خاندان سے ہیں اور کانگریس ان کے خاندان کی دین ہے۔‘‘ سابق کانگریسی رہنما نے کہا کہ پارٹی میں کئی ایسے لیڈر ہیں جو مایوس تو ہیں، مگر اپنی اگلی نسل کے سیاسی مستقبل کی خاطر خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ان کے بچے کانگریس میں شامل ہو چکے ہیں، اسی لیے وہ ذلت کے باوجود پارٹی میں بنے ہوئے ہیں۔‘‘

ششی تھرور اور پارٹی قیادت کے اختلافات پر تبصرہ

شکیل احمد نے کانگریس صدر کے انتخاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’میں ششی تھرور کو ووٹ دینا چاہتا تھا، لیکن جب دیکھا کہ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے وفادار ملکارجن کھڑگے کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں، تو میں نے مجبوری میں کھڑگے صاحب کو ووٹ دیا۔‘‘ واضح رہے کہ ششی تھرور پہلے ہی پارٹی قیادت کے ساتھ بعض مسائل کی طرف اشارہ کر چکے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ ان معاملات پر قیادت سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے کیرالہ اسمبلی انتخابات سے متعلق پارٹی کی ایک اہم اسٹریٹجک میٹنگ میں شرکت نہیں کی، جسے پارٹی کے اندرونی اختلافات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

8 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

9 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

9 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

10 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

10 hours ago