آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے ایک جذباتی اور تہلکہ خیز پوسٹ میں الزام لگایا کہ انہیں اپنے ہی خاندان کی جانب سے بے عزتی، بدسلوکی اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں نہ صرف ذلیل کیا گیا بلکہ ان پر چپل سے حملے کی کوشش بھی کی گئی۔ روہنی نے ایک دل سوز پوسٹ میں لکھا: ’’اکل ایک بیٹی، ایک بہن، ایک شادی شدہ عورت، ایک ماں کی تذلیل کی گئی، غلیظ گالیاں دی گئیں، مارنے کے لیے چپل اٹھایا گیا۔ میں نے اپنی عزت نفس سے سمجھوتہ نہیں کیا، سچائی کو کسی کے حوالے نہیں کیا اور صرف اسی وجہ سے مجھے ذلت برداشت کرنی پڑی۔
گزشتہ روز ایک بیٹی اپنے روتے ماں-باپ بہنوں کو چھوڑآئی۔ مجھ سے میرا مائیکا چھڑوایا گیا… مجھے یتیم کر دیا گیا….
آپ سب میرے راستے پر کبھی نہ چلیں۔ کسی گھر میں روہنی جیسی بیٹی – بہن پیدانہ ہو۔‘‘
پارٹی و خاندان کی جانب سے کوئی رد عمل نہیں
روہنی کے ان سنگین الزامات پر آر جے ڈی یا یادو خاندان کی طرف سے فی الحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بہار کی سیاست پہلے ہی انتخابی نتائج کے باعث شدید ہلچل میں ہے۔
’’سیاست چھوڑ دی، خاندان بھی چھوڑ دیا‘‘ — روہنی کا اعلان
اس سے کچھ گھنٹے پہلے روہنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ سیاست چھوڑ رہی ہیں اور ’’اپنے خاندان سے رشتہ توڑ رہی ہیں‘‘۔ بعد ازاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں براہ راست الزام لگایا کہ: تیجسوی یادو، ان کے قریبی ساتھی سنجے یادو اور ایک دوسرے تیجسوی کے قریبی رمیز نے انہیں گھر سے’’نکال دیا‘‘، بے عزت کیا اور’’مارا‘‘۔ روہنی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی کی شکست پر سوال اٹھایا تو انہیں ’’گھر بدر‘‘ کر دیا گیا۔
آر جے ڈی کی بدترین کارکردگی اور ذمہ داری کا سوال
2025 کے بہار اسمبلی انتخابات میں آر جے ڈی کو صرف 25 نشستیں ملیں، حالانکہ اس نے 140 سے زائد حلقوں میں امیدوار اتارے تھے۔ روہنی کا کہنا ہے کہ پارٹی کی قیادت شکست کی ذمہ داری قبول نہیں کرنا چاہتی۔ ’’آپ بس سنجے یادو یا رمیز کا نام لے کر دیکھیں… فوراً گھر سے باہر پھینک دیا جاتا ہے، گالیاں دی جاتی ہیں، مارا جاتا ہے۔‘‘—روہنی
یادو خاندان میں اختلافات مزید گہرے
روہنی کے خاندان سے رشتہ توڑنے کے بیان نے لالو یادو خاندان میں موجود دراڑوں کو اور نمایاں کر دیا ہے۔ اس سے قبل ان کے بھائی تیج پرتاپ یادو کو بھی ذاتی زندگی کے تنازعے کے بعد پارٹی اور خاندان دونوں سے نکالا جا چکا ہے۔
سیاسی حلقوں میں تشویش: لالو خاندان کا مستقبل؟
روہنی کے الزامات نے نہ صرف یادو خاندان میں کشیدگی بڑھائی ہے بلکہ آر جے ڈی کی اندرونی سیاست پر بھی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ بہار کی سیاست کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ لالو یادو کے سیاسی گھرانے میں ایک بڑے بحران کی علامت ہے۔ تناؤ، اختلاف اور الزامات کے اس ماحول میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آر جے ڈی اور یادو خاندان اس صورتحال سے باہر کیسے نکلتے ہیں یا پھر یہ بحران پارٹی کے مستقبل کو مزید کمزور کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…