بہار اسمبلی انتخابات 2025 نے ریاست کی سیاست میں ایک اہم اور تشویشناک تبدیلی سامنے آئی ہے۔ 243 اسمبلی نشستوں میں سے صرف 11 مسلم امیدوار کامیاب ہو سکے، جو پچھلے انتخابات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ 2020 میں 19 اور 2015 میں 24 مسلم امیدوار جیتے تھے، مگر اس بار یہ تعداد آدھی سے بھی کم رہ گئی۔ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 17 فیصد ہے، مگر اسمبلی میں ان کی حصہ داری محض 4.5 فیصد رہ گئی، جسے ماہرین نے ’’تاریخی زوال‘‘ قرار دیا ہے۔
ٹکٹوں کی کمی اور سیماچل میں ووٹوں کی تقسیم
ماہرین کے مطابق مسلم نمائندگی میں اس کمی کے تین بڑے اسباب سامنے آئے:
1- بہت کم ٹکٹوں کی تقسیم
این ڈی اے کی جانب سے صرف 5 مسلم امیدوار اتارے گئے، جن میں سے جے ڈی یو کا صرف ایک امیدوار کامیاب ہوا۔ بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا۔
2- سیمانچل میں ووٹوں کا بکھراؤ
ارریہ، کشن گنج، کٹیہار، پورنیہ، کوچادھامن، امور، بیسی اور جوکی ہاٹ جیسے دیگر مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلم ووٹر بڑی تعداد میں ہیں لیکن اس بار یہاں ووٹ کئی پارٹیوں کے درمیان تقسیم ہوگئے۔ اے آئی ایم آئی ایم، آر جے ڈی، کانگریس اور کئی آزاد امیدواروں کے درمیان یہاں مقابلہ رہا۔ اس بکھراؤ کے سبب مختلف سیٹوں پر مسلم امیدوار مختلف حلقوں میں ہار گئے۔
3- ذات پات اور سیاسی اتحادوں کی نئی ترتیب
کئی نشستوں پر غیر مسلم امیدواروں نے مضبوط مقامی اثر و رسوخ کے باعث برتری حاصل کی، جبکہ مسلم امیدواروں کو روایتی ووٹ کے علاوہ اضافی حمایت نہیں مل پائی۔
’’سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اس کمی کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے، بڑی پارٹیوں نے اس بار مسلم امیدواروں کو بہت کم ٹکٹ دیے۔ این ڈی اے نے صرف پانچ مسلم امیدوار کھڑے کیے، جن میں سے صرف ایک جے ڈی یو نے جیتا۔ بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار کھڑا نہیں کیا۔‘‘
پارٹی وار کارکردگی: کون کہاں جیتا؟
اس بار مختلف پارٹیوں کی مسلم امیدواروں کی کارکردگی کچھ اس طرح رہی: اے آئی ایم آئی ایم نے 23 مسلم امیدوار اتارے جن میں سے 5 کامیاب ہوئے۔ مرشد عالم (جوکی ہاٹ)، توصیف عالم (بہادرگنج)، سرور عالم (کوچادھامن)، اخترالایمان (امور) اور غلام سرور(بیسی) سے کامیاب ہوکر اسمبلی پہنچے ہیں۔ آر جے ڈی سے 3 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جن میں فیصل رحمان (ڈھاکہ)، آصف احمد (بسفی) اور اسامہ شہاب (رگھوناتھ پور) شامل ہیں۔ کانگریس سے 10 میں سے 2 امیدوار قمرالہدى(کشن گنج)، عابدالرحمان (ارریہ) جبکہ جنتا دل یونائیٹڈ سے واحد مسلم چہرہ زماں خان (چین پور) کامیاب ہوئے۔ بی جے پی نے اس بار کسی مسلم کو ٹکٹ نہیں دیا۔
سیاسی اور سماجی اثرات: مسلم آواز مزید کمزور
بہار کی سیاست میں مسلم رائے دہندگان ہمیشہ فیصلہ کن سمجھے جاتے رہے ہیں۔ کئی نشستیں مسلم ووٹ کے رخ پر منحصر ہوتی ہیں۔ لیکن 2025 کے نتائج بتاتے ہیں کہ اسمبلی میں مسلمانوں کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ترقیاتی پالیسیوں، سماجی اسکیموں اور حکومتی عمل میں مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کس حد تک برقرار رہ پائے گی؟
’’بہار کے انتخابات میں جیتنے والے مسلم امیدواروں کی تعداد کم ہو کر 11 رہ گئی، جو پچھلے انتخابات کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ مسلم کمیونٹی ریاست کی آبادی کا تقریباً 17 فیصد ہے، لیکن اسمبلی میں ان کا حصہ صرف 4.5 فیصد رہ گیا۔ سیمانچل علاقے میں مسلم ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے کئی مسلم امیدوار ہار گئے، جہاں کئی پارٹیوں کے درمیان مقابلہ تھا۔‘‘
سیاسی جماعتوں کے لیے ایک سخت انتباہ
اس بار مسلم نمائندگی کی تعداد سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ صرف ’’ووٹ بینک‘‘ کے طور پر مسلمانوں کو دیکھنے کا دور ختم ہونا چاہیے۔ اگر جماعتیں واقعی شمولیتی سیاست چاہتی ہیں تو انہیں مسلم قیادت، بہتر نمائندگی اور حقیقی سیاسی شراکت کو فروغ دینا ہوگا۔ 17 فیصد آبادی کے مقابلے میں صرف 4.5 فیصد نمائندگی نہ صرف سیاسی عدم توازن کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ مسلم ووٹ بینک اب مرکزیت کھو چکا ہے۔ سیمانچل میں ووٹوں کی تقسیم اور بڑے اتحادوں کی حکمت عملی میں کمی نے مجموعی طور پر مسلمانوں کی جیت کو محدود کر دیا۔ اگر سیاسی جماعتیں اس خلا کو دور نہ کر پائیں تو آنے والے برسوں میں مسلم نمائندگی مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…