نئی دہلی :نتیش کمار نے جمعہ 10 اپریل 2026 کو پارلیمنٹ ہاؤس میں راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے حلف لے لیا، جس کے بعد ان کے سیاسی کیریئر کا نیاسفر شروع ہو گیا ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے نتیش کمار کو دلایاحلف۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ نتیش کمار جلد ہی بہار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ اطلاعات کے مطابق وہ دہلی سے پٹنہ پہنچنے کے بعد 14 اپریل کو استعفیٰ دے سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق استعفیٰ سے قبل جے ڈی یو کے قانون ساز اسمبلی اور کونسل ارکان کی مشترکہ میٹنگ بلائی جا سکتی ہے، جس میں نئے قائد کا انتخاب ہوگا۔ اس کے بعد 15 اپریل کو بہار میں نئی حکومت کی تشکیل کا امکان ہے۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ نتیش کمار کے بعد ریاست کا نیا وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔راجیہ سبھا کی رکنیت کا حلف لینے کے ساتھ ہی نتیش کمار بہار کے پانچویں ایسے لیڈربن گئے ہیں جو چاروں ایوانوں — بہار اسمبلی، بہار قانون ساز کونسل، لوک سبھا اور راجیہ سبھا — کے رکن رہ چکے ہیں۔ ان سے قبل لالو پرساد یادو، اپیندر کشواہا، ناگمنی اور سابق نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی بھی چاروں ایوانوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔
نتیش کمار کے حلف لینے کے بعد راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ آر جے ڈی لیڈر شکتی سنگھ یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کی پیش گوئی آج سچ ثابت ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ “اقتدار کی سیاست کرنے والی جماعتیں دعویٰ کر رہی تھیں کہ 2025 سے 2030 تک دوبارہ نتیش کمار ہی رہیں گے، لیکن تیجسوی یادو نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ اس مدت میں نتیش کمار کی سیاست ختم ہو جائے گی۔”شکتی سنگھ یادو نے مزید الزام لگایا کہ یہ سب سیاسی سازش کا نتیجہ ہے اور نتیش کمار کا سیاسی باب ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی سیاست میں اب بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی اور موقع پرست سیاستدانوں کا خاتمہ یقینی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…
AFSPA کے تحت یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا حکم، 5 اضلاع کے 13 پولیس تھانوں…
’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…