اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اتحاد ختم کرلیا ہے۔
مغربی بنگال میں اسمبلی الیکشن کے دوران وائرل ایک ویڈیو کے بعد سیاسی ہلچل تیزہوگئی ہے۔ یہ ویڈیوہمایوں کبیرسے جڑا ہوا ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے ویڈیوکی جانچ کرانے اورکارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تووہیں ریاست میں ہمایوں کبیر کی پارٹی اے جے یوپی کے ساتھ مل کرالیکشن لڑرہی اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے اپنا سیاسی اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے آج جمعہ کی صبح سوشل میڈیا ایکس پرپوسٹ کرکے کہا، ”ہمایوں کبیر سے متعلق انکشاف سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ بنگال کے مسلمانوں کتنے کمزورہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم ایسے کسی بھی بیان سے خود کو نہیں جوڑسکتی، جس سے مسلمانوں کی ایمانداری پرسوال اٹھے۔“ پارٹی نے مزید کہا، ”آج سے اے آئی ایم آئی ایم نے ہمایوں کبیر کی پارٹی اے جے یوپی کے ساتھ اپنا اتحاد توڑدیا ہے۔“
کسی بھی پارٹی سے اتحاد نہیں کریں گے: اے آئی ایم آئی ایم
اے آئی ایم آئی ایم نے مزید لکھا، ”بنگال میں مسلمان سب سے غریب، سب سے زیادہ نظراندازاورسب سے زیادہ استحصال زدہ طبقے میں سے ایک ہیں۔ کئی دہائیوں کی سیکولرحکمرانی کے باوجود، ان کے لئے کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ کسی بھی ریاست میں الیکشن لڑنے کے پیچھے اے آئی ایم آئی ایم کی پالیسی اس بات کویقینی بنانا ہے کہ پسماندہ طبقات کوایک آزاد سیاسی آوازملے۔ ہم اب بنگال میں کسی بھی پارٹی کے ساتھ آزادانہ طورپرالیکشن لڑیں گے۔“
اس سے قبل جمعرات کے روز (9 اپریل، 2026) مغربی بنگال میں اس وقت سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا، جب ہمایوں کبیرکا ایک مبینہ ویڈیوسوشل میڈیا پروائرل ہوا۔ ویڈیوکے جاری ہونے کے بعد، ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس پارٹی نے اسے شیئرکیا اورانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے ہمایوں کبیرکے مبینہ دعووں کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ اے آئی جنریٹیڈ ویڈیو ہے، ہمایوں کبیرکا دعویٰ
حالانکہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہمایوں کبیرنے اس ویڈیوکو اے آئی جنریٹیڈ قراردیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد انہیں بدنام کرنا ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں قانونی کارروائی کرنے کی بھی دھمکی دی۔ مغربی بنگال کے ایک سرکردہ مسلم رہنما ہمایوں کبیربابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے اعلان کے بعد سرخیوں میں آئے تھے۔ حالانکہ انہیں مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد انہیں ٹی ایم سی نے معطل کردیا تھا۔ گزشتہ سال کے آخرمیں ٹی ایم سی سے معطل ہونے کے کچھ ہی دن بعد عام جنتا اُنین پارٹی (اے جے یوپی) تشکیل دی۔ اسمبلی الیکشن کے اعلان کے بعد ہمایوں کبیرنے اسدالدین اویسی کی پارٹی (اے آئی ایم آئی ایم) کے ساتھ انتخابی اتحاد بنایا تھا، جواب ٹوٹ گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…
ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…
مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…
ڈاکٹر سید فاروق، صدر ہمالیہ ڈرگس نے مسابقۂ قرآن کریم کے کامیاب انعقاد پر مسرت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…
نئی دہلی میں نیتی آیوگ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں انڈمان و نکوبار کے لیفٹیننٹ…