قومی

Narendra Modi Resign for PM Post: نریندر مودی نے وزیر اعظم عہدے سے دیا استعفیٰ، صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کیا منظور

Narendra Modi Resign for PM Post: نریندر مودی بدھ (05 جون) کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ راشٹرپتی بھون پہنچے اور انہوں نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو اپنا استعفیٰ سونپا۔ صدر جمہوریہ نے اسے قبول کرلیا ہے اورانہیں کارگزار وزیراعظم بنے رہنے کو کہا ہے۔ نریندر مودی اور صدردروپدی مرموکی ملاقات کی تصویر بھی سامنے آئی ہیں، جس میں وہ استعفیٰ سونپتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ وزیراعظم مودی دہلی میں این ڈی اے کی ہونے والی میٹنگ سے پہلے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو استعفیٰ سونپا ہے۔

صدرجمہوریہ کے آفیشیل ایکس (ٹوئٹر) ہینڈل سے ٹوئٹ کرکے کہا گیا، “وزیراعظم نریندر مودی نے راشٹرپتی بھون میں صدر جمہوریہ دروپدی مرموسے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے یونین کونسل آف منسٹرز کے ساتھ اپنا استعفیٰ دے دیا۔ صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے استعفیٰ منظور کرلیا ہے اوروزیراعظم اوریونین کونسل آف منسٹرز سے نئی حکومت بننے تک عہدے پر بنے رہنے کی  اپیل کی۔”

بی جے پی کو اکثریت نہیں ملنے سے بگڑی بات

دراصل، بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کو 292 سیٹوں کے ساتھ اکثریت ملی ہے۔ ایسے میں این ڈی اے کی حکومت بننے کا مضبوط امکان ہے۔ بی جے پی کو اپنے دم پراکثریت نہیں ملی ہے۔ اس وجہ سے سیاسی گلیاروں میں بحث ہو رہی ہے کہ کہیں این ڈی اے کی اتحادی پارٹیاں اسے چھوڑکر نہ چلی جائیں۔ اگرایسے حالات بنتے ہیں تو این ڈی اے کے لئے پھرسے اقتدارمیں آنا مشکل ہوجائے گا۔ سب سے زیادہ بحث بہارکے وزیراعلیٰ اور جے ڈی یو سربراہ نتیش کماراور ٹی ڈی پی سربراہ چندرا بابو نائیڈو سے متعلق ہو رہی ہے۔ حالانکہ دونوں لیڈران نے اشاروں اشاروں میں این ڈے کے ساتھ ہونے کی بات کہی ہے۔

کسے کتنی سیٹیں ملیں؟

این ڈی اے کو اکثریت مل گئی ہے اور اسے 292 سیٹیں ملی ہیں۔ بی جے پی کے کھاتے میں 240 سیٹیں گئی ہیں۔ وہیں اس کی اتحادی تیلگودیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) نے 16، جے ڈی یونے 12، مہاراشٹرکے وزیراعلیٰ کی قیادت والی ایکناتھ شندے کی شیو سینا نے 7 اورچراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس پاسوان) نے 5 سیٹیں جیتی ہیں۔ یہ حکومت تشکیل میں اہم کردار نبھائیں گے۔

ٹی ڈی پی-جے ڈی یو کے ہاتھ میں ریموٹ کنٹرول

بی جے پی کو اپنے دم پراکثریت نہیں ملنے کے بعد انڈیا الائنس بھی حکومت بنانے کی کوشش کرسکتی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کانگریس ہائی کمان نے ٹی ڈی پی سربراہ چندرا بابو نائیڈو اوربہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمارسے رابطہ کیا ہے۔ دونوں لیڈران کے پاس 28 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ اگر 28 کی تعداد کو کم کردیا جائے تو پھربی جے پی کے پاس اکثریت باقی نہیں رہے گی۔ حالانکہ ٹی ڈی پی اور جے ڈی یو واضح کرچکی ہیں کہ وہ این ڈی اے میں ہی رہیں گے۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

9 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

9 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

9 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

9 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

10 hours ago