قومی

SP MP Zia ur Rahman Barq: سنبھل پہنچے ایم پی ضیاء الرحمان برق، کہا- امن کو آگ لگانے والا تھا یہاں کا واقعہ

SP MP Zia ur Rahman Barq: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمان برق 37 دنوں کے بعد اپنے آبائی ضلع سنبھل پہنچے۔ اس دوران انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا گھر صرف میرا نہیں ہے، پورا سنبھل میرا گھر ہے اور میں اپنے گھر آیا ہوں۔ سنبھل تشدد پر بیان دیتے ہوئے برق نے کہا کہ وہ واقعہ امن کو آگ لگانے والا تھا۔ ہمارے لوگوں کو قتل کیا گیا اور ہمارے ہی خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ بجلی چوری پر ان کا کہنا تھا کہ اگر کل پولیس کی لاٹھی غائب ہو جائے گا تو مجھے ذمہ دار ٹھہریا جائےگا۔

تشدد کے دوران کہاں تھے رکن پارلیمنٹ؟

ضیاء الرحمان برق 22 نومبر کو سنبھل کی جامع مسجد میں نماز پڑھنے پہنچے تھے، لیکن اس کے بعد 24 نومبر کو سنبھل میں تشدد پھوٹ پڑا۔ 25 نومبر سے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس تھا، جس کی وجہ سے برق تشدد کے دن سنبھل میں نہیں تھے، بلکہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی آ گئے تھے۔ اس کے بعد پہلی بار برق سنبھل پہنچے۔

لٹک رہی ہے گرفتاری کی تلوار

تاہم گزشتہ 37 دنوں میں سنبھل کی پوری تصویر ہی بدل گئی ہے، کیونکہ ایم پی برق پر بھی گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے۔ برق کو سنبھل تشدد کیس میں اہم ملزم بنایا گیا ہے۔ ان کے خلاف بجلی چوری کیس میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ بجلی نے ایک کروڑ 91 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں- Nitesh Rane Controversial Statement: بی جے پی ایم ایل اے نتیش رانے نے کیرالہ کو کہا منی پاکستان، کہا- 12000 خواتین کو بچایا

سنبھل پہنچا ایس پی کا وفد

سماج وادی پارٹی کا وفد آج پہلے برق کے گھر پہنچا اور پھر سرکٹ ہاؤس کے لیے روانہ ہوا۔ اس دوران سنبھل کے ایم پی ضیاء الرحمن برق اور کیرانہ کی ایم پی اقرا حسن بھی شامل تھیں۔ سماج وادی پارٹی کے وفد نے سنبھل تشدد کے متاثرین کو پانچ پانچ لاکھ روپے کا چیک سونپا۔ ایس پی کا ایک وفد اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد کی قیادت میں سنبھل پہنچا تھا۔

-بھارت ایکسپریس

Mohd Sameer

Recent Posts

Ramdas Athawale Criticised Rahul Gandhi: راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کی تحریک صرف لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے ہے: رام داس اٹھاولے

مرکزی وزیر مملکت کا الزام، بار بار مارچ اور ریلیوں سے عام لوگوں کو مشکلات…

7 minutes ago

Delhi’s Jantar Mantar de-notification: کیا جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے کا دہلی پولیس کا فیصلہ قانونی طور پر درست ہے؟

سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود…

8 minutes ago

Dharavi Redevelopment: دھاراوی کے دن بدلنے کی امید! ماٹونگا میں نئے بازآبادکاری مکانات کا سنگ بنیاد، اڈانی گروپ نے بڑے پروجیکٹ کا کیا آغاز

ممبئی کے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ نے ایک اہم مرحلہ طے کرلیا ہے۔ ماٹونگا میں…

35 minutes ago

SIR Punjab-13 Lakh Names Deleted: پنجاب میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے بعد 13 لاکھ سے زائد نام خارج، حتمی فہرست جاری

تقریباً 7.97 لاکھ نئے ووٹر شامل، حتمی فہرست میں 2.01 کروڑ سے زیادہ ووٹر درج،…

2 hours ago