وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے الزام عائد کیا کہ وقف سے متعلق وہ لوگ بھی بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں، جو وقف کا مطلب بھی نہیں سمجھتے۔ انھوں نے لوک سبھا میں کہا کہ ’’آج وہ لوگ بول رہے ہیں، جو وقف کا مطلب بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ وقف کو مسلمان ہی سمجھتا ہے اور جانتا ہے۔ اتر پردیش میں 78 فیصد زمین کو سرکاری ملکیت بتا دیا گیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’مسلمانوں پر شرطیں نافذ کی جا رہی ہیں۔ کئی جگہ وقف کی ملکیت کو سرکاری بتایا گیا ہے۔ یہ قانونی معاملوں میں مسلمانوں کو الجھائیں گے۔‘‘
مودی حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے عمران مسعود نے کہا کہ ’’بابا صاحب امبیڈکر جی نے اپنے آئین میں ملک کے ہر شخص کے تحفظ کی بات کہی ہے۔ امبیڈکر جی نے کہا تھا کہ سیاسی جمہوریت تب تک نہیں ٹک سکتی، جب تک اس کی بنیاد میں سماجی جمہوریت نہ ہو۔ اور سماجی جمہوریت کا مطلب ہے زندگی کا ایک ایسا طرز جو خود مختاری، مساوات و بھائی چارہ کی زندگی سے متعلق اصولوں کو قبولیت دیتی ہے۔‘‘
وقف کے تعلق سے عمران مسعود کہتے ہیں کہ ’’وقف ایک طریقہ ہے، جس میں ایک مسلمان اپنی حیثیت کے حساب سے اپنی ملکیت کو، یا کسی بھی چیز کو اللہ کی راہ میں وقف کرتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اس وقف بل کو ڈرافٹ کرنے والے جو لوگ تھے، ان میں بیشتر لوگ وقف کے بارے میں جانتے بھی نہیں۔ میں ایک بات بہت دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ 90 فیصد لوگ یہ بھی نہیں بتا پائیں گے کہ پاکی اور ناپاکی کیا ہوتی ہے، تو پھر آپ وقف کو کیا جانیں گے؟‘‘
اپنے خطاب میں عمران مسعود نے سچر کمیٹی کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’2005 میں مختلف ریاستی بورڈس کے ذریعہ سچر کمیٹی کے سامنے یہ کہا گیا کہ دہلی میں 316، راجستھان میں 60، کرناٹک میں 42، مدھیہ پردیش میں 53، اتر پردیش میں 60، ادیشہ میں 53 ایسی پراپرٹی ہیں، جن کے اوپر حکومت نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس کے بعد جب یہ قانون نافذ ہو جائے گا تو اس کے اوپر سے وقف کا اختیار ختم ہو جائے گا۔‘‘ یہ تفصیل بیان کرنے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’یہ (وقف بل) پوری طرح سے آئین مخالف ہے۔ یہ بل براہ راست آرٹیکل 14، آرٹیکل 16، آرٹیکل 26 اور آرٹیکل 25 کو اوورلیپ کرنے کا کام کرتا ہے۔‘‘
عمران مسعود نے مودی حکومت کے سامنے ہندوستانی روایات کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ ’’ہماری روایت ہمیں رواداری و تحمل سکھاتی ہے۔ ہمارا آئین ہمیں رواداری کی پریکٹس کراتا ہے۔ ہمیں اسے کمزور نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں یہی تحفظ دے رہا ہے۔ یہ بابا صاحب کے خوابوں کا آئین ہی ہے، جس میں ملک کے اندر رہنے والے ہر شہری کو یکساں حقوق ملے ہیں۔‘‘ اپنے خطاب میں کانگریس رکن پارلیمنٹ نے عید کے موقع پر اقلیتی طبقہ کے درمیان ’سوغاتِ مودی‘ تقسیم کیے جانے کا تذکرہ بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کے مسلمانوں کو حال ہی میں ’سوغاتِ مودی‘ ملی۔ ہمیں سوغاتِ مودی میں عید کی سیوئیاں نہیں چاہئیں، بلکہ تعلیم و روزگار اور محبت دے دیجیے۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
کچھ دن پہلے دارالعلوم دیوبند نے طلباء کے لیے ایک نیا گائیڈ لائن جاری کیا…
شیو سینا (یو بی ٹی) سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو کہا کہ وقف ترمیمی…
سری لیلا کو ایک مداح نے زبردستی کھینچ لیا، اتوار (6 اپریل) کو پاپرازی انسٹاگرام…
شمالی انگلینڈ میں شیفیلڈ سینٹرل کی ایم پی ابتسام محمد اور جنوب مشرقی انگلینڈ کے…
وزیر اعظم مودی نے اپنی ’پڑوسی پہلے‘ پالیسی کو دہرایا اور میانمار میں حالیہ زلزلے…
پولیس اسٹیشن صدر راج پورہ کے ڈی ایس پی رشیندر سنگھ نے کہا کہ واقعہ…