قومی

Woman Files Complaint Against Mohammad Junaid: احتجاج میں کھانا کھلانے والے جنید کی مشکلوں میں پھر اضافہ، اب خاتون نے چھیڑچھاڑ کی شکایت درج کرکے لگائے سنگین الزامات، تحقیقات شروع

جنتر منتر پر طلبہ تحریک کے دوران ویج بریانی، چائے اور ناشتہ تقسیم کرکے سوشل میڈیا پر نمایاں ہونے والے محمد جنید ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اس مرتبہ ان کے خلاف ایک خاتون کی جانب سے دہلی پولیس میں دی گئی تحریری شکایت کے باعث معاملہ زیر بحث ہے۔ خاتون نے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں شکایت دے کر جنید پر نامناسب رویے اور خواتین کو پریشان کرنے جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ شکایت میں لگائے گئے الزامات کی فی الحال تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

خاتون نے پولیس میں کیا شکایت دی؟

شکایت کنندہ خاتون کے مطابق وہ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاج کے دوران ویسٹ مینجمنٹ سمیت دیگر ذمہ داریاں سنبھال رہی تھیں۔ اسی دوران ان کی محمد جنید سے بات چیت ہوئی۔ خاتون نے الزام لگایا کہ جنید کا لڑکیوں کے تئیں مبینہ رویہ انہیں غیر آرام دہ محسوس ہوا۔خاتون کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں CJP سے وابستہ ابھیجیت دیپکے کو بھی معلومات دی تھیں اور جنید کو احتجاجی مقام سے ہٹانے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ان کے مطابق اس معاملے میں مطلوبہ کارروائی نہیں کی گئی۔ پولیس اب شکایت میں بیان کیے گئے واقعات اور ان سے متعلق دیگر حقائق کی جانچ کر رہی ہے۔

جنید کیسے آئے تھے سرخیوں میں؟

محمد جنید، جو بنیادی طور پر غازی آباد کے رہنے والے اور ایل ایل بی کے طالب علم بتائے جاتے ہیں، طلبہ تحریک کے دوران مظاہرین کو ویج بریانی اور چائے ناشتہ فراہم کرنے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہوئے تھے۔ ان کی خدمت سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی تھیں، جس کے بعد انہیں ’بریانی والے جنید بھائی‘ کے نام سے بھی پہچانا جانے لگا۔بعد میں جنید نے ایک ویڈیو جاری کرکے دعویٰ کیا تھا کہ احتجاج کے دوران خدمت کرنے کے باوجود انہیں CJP کی کور ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔

پولیس سے پوچھ گچھ کا معاملہ بھی آیا تھا سامنے

اس سے قبل جنید نے دہلی پولیس پر بھی کچھ الزامات عائد کیے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے گھر پر کارروائی کے دوران اہل خانہ کو پریشان کیا گیا اور بعض دستاویزات و بینک سے متعلق کاغذات ضبط کیے گئے۔ انہوں نے حراست کے دوران مبینہ بدسلوکی کی بات بھی کہی تھی۔دوسری جانب پولیس کی طرف سے کہا گیا تھا کہ بریانی تقسیم کرنے کے لیے رقم کے ذریعے سے متعلق معمول کی پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

رانچی کے طلبہ احتجاج میں بھی نظر آئے جنید

محمد جنید حالیہ دنوں جھارکھنڈ کے رانچی میں JPSC-JSSC امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ احتجاج میں بھی نظر آئے ہیں۔ یہاں بھی وہ مظاہرین کے لیے کھانے پینے کی اشیا اور چائے بسکٹ فراہم کرتے دکھائی دیے۔اب دہلی پولیس کو دی گئی شکایت کے بعد معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تاہم فی الحال کسی الزام کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ شکایت میں لگائے گئے الزامات کی حقیقت کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Moody’s India GDP Forecast: جی 20 ممالک میں بھارت سب سے آگے، موڈیز نے جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ بڑھا کر 7 فیصد کیوں کیا؟

موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…

2 hours ago

US-Greenland: گرین لینڈ پر امریکا کا قبضہ ، ٹرمپ کے دھورے  خواب ہوئے پورے، روس اور چین کو بڑے جھٹکے

امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…

3 hours ago

?Will India Face a 100% Tariff: بھارت پر لگ سکتا ہے 100 فیصد ٹیرف؟ ٹرمپ نے نئے قانون پر دستخط کیے

قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…

3 hours ago