حریت کانفرنس کے صدر میر واعظ عمر فاروق۔ (فائل فوٹو)
پارلیمنٹ میں جاری وقف بل پر بحث کے دوران جموں و کشمیر کے میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے مسلم تنظیموں کی طرف سے پیش کیے گئے کسی بھی خدشے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ میر واعظ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’آج ہندوستان میں کروڑوں مسلمان خاموش تماشائیوں کی طرح اپنے حقوق اور اداروں کو بے دریغ پامال ہوتے دیکھ رہے ہیں اور خود کو بے حد گرا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔‘‘
انھوں نے مزید لکھا کہ جیسا کہ حکمران جماعت پارلیمنٹ میں ناقابل دفاع وقف ترمیمی بل کا دفاع کر رہی ہے، ایسے میں یہ نہایت تشویش ناک اور پریشان کن ہے کہ نئی دہلی میں مسلم تنظیموں، بشمول ایم ایم یو کی طرف سے پیش کیے گئے سنگین خدشات اور تحفظات میں سے کسی ایک پر بھی توجہ نہیں دی گئی ہے۔
میر واعظ نے ایک ماہ قبل جے سی پی سے کی تھی ملاقات
واضح رہے کہ ایک ماہ قبل بل پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مدد کے لیے مختلف مسلم اداروں کے سربراہوں کے ساتھ پارلیمانی کمیٹی نے ملاقات کی تھی۔ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب میر واعظ عمر فاروق نے قانون سازی کے کسی معاملے میں شمولیت اختیار کی۔ نئی دہلی میں ایک ہفتہ قیام کے دوران میرواعظ نے وقف ترمیمی بل سے متعلق پارلیمنٹ کی جوائنٹ کمیٹی (JCP) سے ملاقات کے علاوہ تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا سعد سید کاندھلوی اور جمعیت علمائے ہند کے سربراہ مولانا محمود مدنی سے بھی ملاقات کی تھی۔
انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق مجوزہ ترامیم کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے میر واعظ نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت وقف کو سرکاری کنٹرول میں لانے کی کوشش کر کے مسلمانوں کو ’’مزید کمزور کر رہی ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں نے جموں و کشمیر اور لداخ میں اس بل کے حوالے سے مسلم برادری کے ’’خدشات اور تحفظات‘‘ سے جے پی سی کو آگاہ کرنے کے لیے ملاقات کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے اس کے بعد اگلا آپشن عدالت کا رخ کرنا ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…