قومی

Waqf (Amendment) Act, 2025: جھارکھنڈ میں وقف بل نافذ نہیں ہونے دیں گے، وزیر صحت عرفان انصاری کا اعلان

مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے وقف (ترمیمی) بل 2025 کے خلاف جھارکھنڈ میں سیاسی مخالفت زور پکڑ گئی ہے۔ ریاست کے وزیر صحت اور کانگریس کے سینئر رہنما ڈاکٹر عرفان انصاری نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ اس بل کو جھارکھنڈ میں نافذ نہیں ہونے دیں گے۔

عرفان انصاری نے کہا، “کسی بھی قیمت پر ہم یہ وقف ترمیمی بل جھارکھنڈ میں لاگو نہیں ہونے دیں گے۔ یہ بل مسلمانوں کے خلاف ہے اور ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔”

انہوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا، “مسلمانوں نے نتیش کمار کو کبھی ایم ایل اے، کبھی ایم پی، وزیر اور آخر کار وزیر اعلیٰ بنایا، لیکن وہی نتیش کمار آج اقلیتوں کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت مسلمانوں کو صرف پریشان کرنے کے لیے ایسے قوانین لاتی ہے۔ “جب مسلمانوں نے اس ترمیمی بل کی کوئی مانگ ہی نہیں کی، تو مرکز اسے لائی کیوں؟ پہلے تین طلاق، پھر این آر سی اور سی اے اے جیسے متنازع قوانین لائے گئے۔ اگر مودی حکومت اقلیتوں کی بھلائی نہیں کر سکتی، تو کم از کم انہیں پریشان تو نہ کرے،” عرفان انصاری نے کہا۔

عرفان انصاری نے وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ کا رُخ اختیار کرنے پر کانگریس پارٹی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، “ہم کانگریس پارٹی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس امتیازی بل کے خلاف عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہم جھارکھنڈ میں اس بل کو ہرگز نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ اگر آئندہ انتخابات میں ہمیں بہار میں حکومت بنانے کا موقع ملا، تو ہم وہاں بھی اس قانون کو نافذ نہیں ہونے دیں گے۔”

قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے وقف ترمیمی بل 2025 پاس ہو چکا ہے۔ بدھ کو لوک سبھا میں تقریباً 12 گھنٹے کی بحث کے بعد رات دو بجے یہ بل 288 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا، جبکہ 232 اراکین نے اس کی مخالفت کی۔ اگلے دن یعنی جمعرات کو راجیہ سبھا میں بھی بل پر 11 گھنٹے طویل بحث ہوئی اور رات ڈھائی بجے 128 ووٹوں سے بل منظور کر لیا گیا، جبکہ 95 اراکین نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

بل کی منظوری کے بعد کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے اسے اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا ہے اور اس کے خلاف قانونی اور سیاسی محاذ پر جدوجہد کا اعلان کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Indians in Germany: جرمنی میں ہندوستانیوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب، 70 ہزار طلبہ کر رہے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل

جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم،…

9 hours ago

Manoj Bajpayee Raises A Question: منوج باجپائی کا سوال: جو لوگ سماج کے مسائل پر بات نہیں کرتے، انہیں اسٹار کا درجہ کیوں دیا جائے؟

ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…

10 hours ago