قومی

Mehbooba Writes to Farooq Abdullah: محبوبہ مفتی نے مجوزہ احتجاج سے کنارہ کشی اختیار کی، فاروق عبداللہ کو خط لکھ کر کہا- آرٹیکل 370 بنیادی ایجنڈا ہونا چاہیے

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کی جانب سے جنتر منتر پر جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر مجوزہ احتجاج کی موجودہ شکل سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر احتجاج کے ایجنڈے میں آرٹیکل 370 کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کو مرکزی حیثیت دی جائے، تب ہی پی ڈی پی اس میں شریک ہوگی۔

احتجاج میں شمولیت کے لیے شرط رکھی

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں محبوبہ مفتی نے لکھا، ’’تفصیلی غور و فکر کے بعد پی ڈی پی نے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ آرٹیکل 370 کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی احتجاجی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہوں۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’صرف ریاست کا درجہ بحال کرنے تک محدود احتجاج میں شریک ہونا، آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے ہماری وسیع آئینی جدوجہد کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ہماری لڑائی آئینی حقوق کے لیے ہے، نہ کہ محض علامتی اقدامات کے لیے۔‘‘

فاروق عبداللہ کو خط میں واضح مؤقف

محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کو لکھے گئے خط میں کہا، ’’سب سے پہلے میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے پی ڈی پی کو جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دلانے کے لیے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں شرکت کی دعوت دی۔ تاہم اپنے سینئر ساتھیوں سے مشاورت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ایسے احتجاج میں شامل ہونا ہمارے لیے مناسب نہیں ہوگا، جس کا مقصد صرف ریاست کا درجہ بحال کرنا ہو۔‘‘

انہوں نے خط میں مزید لکھا، ’’یہ ادھورا مطالبہ نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اقدام کو درست ثابت کرتا ہے بلکہ 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور غیر آئینی فیصلے کو پس پشت ڈالنے کا بھی خطرہ پیدا کرتا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے جس اجتماعی ذلت اور تکلیف کا سامنا کیا، وہ آج بھی ان کی اجتماعی یادداشت میں موجود ہے۔‘‘

آرٹیکل 370 کی اہمیت پر زور

محبوبہ مفتی نے مزید کہا، ’’کشمیر کے سینئر ترین لیڈر میں سے ایک ہونے کے ناطے مجھے یقین ہے کہ آپ ہمارے عوام کے لیے آرٹیکل 370 کی نہ صرف جذباتی بلکہ عملی اہمیت کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی دونوں بڑی علاقائی جماعتوں، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس، نے 2024 کے انتخابات کے منشور میں آرٹیکل 370 کی بحالی کو اہم ایجنڈا بنایا تھا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’آپ نے ریاست کے عوام کو یقین دلایا تھا کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور باقی ماندہ آئینی اختیارات کی بحالی کے لیے جدوجہد کرے گی۔ عوام نے آپ کی بات پر اعتماد کیا اور آپ کی جماعت کے منشور اور آرٹیکل 370 کی پرامن بحالی کے وعدے کی حمایت کی۔ آپ کی جماعت کو حاصل عوامی حمایت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام کو آپ سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

RBI E Rupee Alternative To UPI: نہ نقد رقم کا جھنجھٹ، نہ ایم ڈی آر کا خوف، کیا ہے آر بی آئی کا متبادل یو پی آئی؟

ای روپے کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے والے دکانداروں کو بینک چارجز سے بچنے…

2 hours ago

UP Politics 2027: عمران مسعود کی تاج پوشی: مسلم آؤٹ ریچ یا اکھلیش یادو کو براہِ راست پیغام؟

اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور…

3 hours ago