قومی

MEA Press Conference: پاکستان کی پرانی عادت ہے”پہلے شکست کھاو پھر ڈھول بجاو‘‘،آپریشن سندورکی کامیابی اورپیغام دنیا کےسامنے واضح ہے:وزارت خارجہ

ہندوستان اور پاکستان کے مابین سیزفائر کے حوالے سے امریکی مداخلت کو وزارت خارجہ نے آج سرے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان براہ راست پاکستان سے بات کررہا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے  آج پریس کانفرنس  کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا دیرینہ موقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے سے متعلق کسی بھی مسئلے کو ہندوستان اور پاکستان کو دو طرفہ طور پر حل کرنا چاہیے۔ اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ زیر التواء معاملہ پاکستان کے غیر قانونی طور پر قابض ہندوستانی علاقے کو خالی کرنا ہے۔یعنی پاکستان مقبوضہ کشمیر کو خالی کرے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہاکہ 7 مئی کو آپریشن سندور کے آغاز سے لے کر 10 مئی کو فائرنگ اور فوجی کارروائی کو روکنے کے معاہدے تک، ہندوستانی اور امریکی رہنماؤں نے ابھرتی ہوئی فوجی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے پاکستان کی جانب سے دیا گیا بیان دیکھا ہے، جس ملک نےبڑے  پیمانے پر دہشت گردی کو فروغ دیا ہے اسے سوچنا چاہیے کہ وہ اس کے نتائج سے کیسے بچ سکتا ہے، وہ خود کو بیوقوف بنا رہا ہے، ہندوستان کی طرف سے تباہ ہونے والا دہشت گردانہ ڈھانچہ نہ صرف ہندوستانیوں کی موت کا ذمہ دار تھا بلکہ بہت سے دوسرے معصوم لوگوں کی موت کا ذمہ دار تھا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا  کہ ہندوستان سندھ آبی معاہدے کو اس وقت تک معطل رکھے گا جب تک کہ پاکستان قابل اعتبار اور ناقابل واپسی طور پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کرنا بند نہیں کرتا۔پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو پر وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا – گزشتہ ہفتے آپریشن سندور کے نتیجے میں پاکستان نے بہاولپور، مریدکے، مظفر آباد اور دیگر مقامات پر اپنے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ ہوتے دیکھا ہے۔ اس کے بعد، ہم نے اس کی فوجی صلاحیتوں کو کافی حد تک کم کیا اور اس کے اہم ایئر بیس کو مؤثر طریقے سے بے اثر کر دیا۔اگر پاکستانی وزیر خارجہ اسے ایک عام  ایکشن  کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں تو وہ خوش آئند ہے۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، ہمارا موقف شروع سے ہی واضح اور مستقل رہا ہے۔ ہم پاکستان سے چلنے والے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے۔اگر وہ ہم پر گولی چلاتے  ہیں تو ہم مناسب جواب دیں گے اور دیتے رہے ہیں۔ 9 مئی کی رات تک پاکستان بھارت کو ایک بڑے حملے کی دھمکی دے رہا تھا۔ جب 10 مئی کی صبح ان کی کوشش ناکام ہوئی اور انہیں بھارت کی طرف سے تباہ کن جواب ملا تو ان کی بولی بدل گئی اور آخر کار ان کے ڈی جی ایم او نے ہم سے رابطہ کیا۔

پاکستان میں جشن اور جیت کے دعوے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ جیت کا دعویٰ کرنا پاکستان کی پرانی عادت ہے۔ 1971ء، 1975ء اور 1999ء کی کارگل جنگ میں بھی اس نے ایسا ہی کیاتھا۔یہ بات وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی پاکستان جیت کے نام پر شکست کا جشن منانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن آپریشن سندور کے بعد پوری دنیا نے دیکھا کہ حقیقت کیا ہے۔ دہشت گردی کے ٹھکانے تباہ ہو چکے ہیں، فوج کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے اور جھوٹ کا غبارہ پھوٹ چکا ہے۔اوربھارت نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ وہ نہ تو دہشت گردی کو برداشت کرے گا اور نہ ہی جھوٹے پروپیگنڈے کو۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Indian Languages ​​in the Digital World: ڈیجیٹل دنیا میں ہندوستانی زبانوں کے امکانات اور چیلنجز پر دو روزہ قومی سیمینار کا اختتام

سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل دور میں ہندوستانی زبانوں کا…

23 minutes ago

Asian Games 2026: سیمی فائنل میں پہنچی ٹیم انڈیا، موسلادھار بارش کے باعث افغانستان کے خلاف کوارٹر فائنل منسوخ

شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…

2 hours ago