قومی

Red Fort blast: دہلی کار بم دھماکے میں بڑا انکشاف، کشمیری ڈاکٹر عمر کے ڈی این اے رپورٹ نے کھو ل دئے راز

10 نومبر کو دہلی کے تاریخی لال قلعے کے قریب ہونے والے زبردست کار بم دھماکے کے پیچھے کا راز بالآخر ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد کھل گیا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں نے تصدیق کی ہے کہ مجرم کشمیر سے تعلق رکھنے والے طبی پیشہ ور ڈاکٹر عمر النبی تھے، جو دھماکے میں ہلاک ہوئے۔ یہ دھماکہ پیر کی شام پرانی دہلی کے علاقے میں ایک سڑک پر ہوا ،جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سے قریبی دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور پورے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔

ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت

ابتدائی تحقیقات میں ڈاکٹر عمر پر شبہ پیدا ہوا کیونکہ  انہوں نے واقعے سے 10 دن پہلے دھماکے میں استعمال ہونے والی سفید رنگ کی ہنڈائی i20 کار خریدی تھی۔ دھماکے کے بعد گاڑی کے قریب سے ان کی لاش کی باقیات برآمد ہوئیں،قابل ذکر بات یہ ہےکہ  شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔ اب پلوامہ میں ان کے اہل خانہ سے لیے گئے، نمونوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ حملہ آور وہی تھے۔

فرید آباد سے 2900 کلو گرام امونیم نائٹریٹ برآمد

9 نومبر کودھماکے سے صرف ایک دن پہلے، پولیس نے فرید آباد کے ایک گودام سے 2,900 کلو گرام امونیم نائٹریٹ ضبط کیا۔ جس کے بعد ڈاکٹرعمر لاپتہ ہو گئے تھے۔ انہیں آخری بار دھوج گاؤں کے قریب دیکھا گیا تھا۔ مبینہ طور پر انہوں نے اپنے 5 موبائل فون بند کیے اور 30 ​​اکتوبر سے یونیورسٹی ڈیوٹی کے لیے رپورٹ نہیں کی۔

ڈاکٹر ماڈیول کا انکشاف

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ عمر فرید آباد، لکھنؤ اور جنوبی کشمیر کے درمیان کام کرنے والے جیش محمد کے لاجسٹک ماڈیول سے وابستہ تھے۔ یہ ماڈیول تقریباً 9 سے 10 ممبران پر مشتمل تھا ،جس میں 5 سے 6 ڈاکٹرز شامل تھے۔ ان ڈاکٹروں نے کیمیکل اور دھماکہ خیز مواد حاصل کرنے کے لیے اپنی پیشہ ورانہ شناخت کا استعمال کیا۔

عمر کے گھر والوں نے کیا کہا؟

کشمیر کے پلوامہ کے کوئل گاؤں میں عمر کا خاندان صدمے میں ہے۔ ایک رشتہ دار نے کہا، “وہ بہت پرسکون اور متعصب تھا۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت کتابیں پڑھنے میں صرف کرتا تھا اور زیادہ میل جول نہیں رکھتا تھا…” قابل ذکر بات یہ ہے کہ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں اس کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔ وہ اکثر فرید آباد اور دہلی میں سفر کرتے تھے اور رام لیلا میدان اور سنہری مسجد کے قریب مساجد میں دیکھا گیاتھا۔  سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انہوں  نے دھماکے سے پہلے سہ پہر تین بجے اپنی گاڑی مسجد کے قریب کھڑی کی اور پھر شام کو لال قلعہ کی طرف روانہ ہوا۔

تحقیقاتی ادارے الرٹ

دہلی پولیس اسپیشل سیل، جموں و کشمیر پولیس اور اتر پردیش انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) سمیت کئی ایجنسیاں فرید آباد ماڈیول سے منسلک دیگر مشتبہ افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے دارالحکومت اور دیگر بڑے شہروں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi will visit Brussels: دسمبر میں برسلز جاکر بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے پر دستخط کریں گے وزیراعظم مودی

معاہدے سے 2 ارب سے زیادہ لوگوں پر مشتمل وسیع بازار تشکیل پانے کی امید،…

9 minutes ago

PM Modi Releases 24th PM Kisan Installment: وزیر اعظم مودی نے پی ایم کسان کی 24ویں قسط جاری کی، 9.34 کروڑ کسان خاندانوں کو ملے 18,680 کروڑ روپے

گجرات کے بھلڈی سے ملک بھر کے مستحق کسانوں کے کھاتوں میں رقم براہِ راست…

44 minutes ago

Joshimath Helicopter Crash: بدری ناتھ دھام سے واپسی پرہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 6 افراد ہلاک

جس وقت ہیلی کاپٹر بدری ناتھ سے واپس آ رہا تھا، اس دوران علاقے میں…

1 hour ago

Reliance Jio: موبائل بازار میں ریلائنس جیو کا غلبہ برقرار، ایئرٹیل سے 10 گنا زیادہ موبائل صارفین جوڑے

جیو نے 19 لاکھ  نئے  صارفین جوڑے ، ایئر  ٹیل کے کھاتے میں  صرف 2لاکھ۔ٹرائی…

2 hours ago