قومی

Maharashtra Population Scam: مہاراشٹر کے ایک گاؤں کا حیران کن انکشاف، 1500 کی آبادی میں تین ماہ میں 27 ہزار سے زائد بچوں کی پیدائش کا اندراج، کیا ہے یوپی-بہار کنکشن؟

مہاراشٹر کے ضلع یوت مال سے ایک ایسا چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ سے لے کر سیاسی حلقوں تک سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہاں محض 1500 کی آبادی والے ایک چھوٹے سے گاؤں شیندور سنی میں صرف تین مہینوں کے دوران 27 ہزار 397 بچوں کی پیدائش کا اندراج کر دیا گیا۔ جب یہ اعداد و شمار سرکاری ریکارڈ میں سامنے آئے تو ایک بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش ہوا، جسے ابتدائی تحقیقات میں سائبر فراڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق ستمبر سے نومبر 2025 کے درمیان شیندور سنی گرام پنچایت میں 27,397 پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے، جبکہ اسی عرصے میں صرف 5 اموات کا اندراج ہوا۔ صحت محکمہ کی ایک معمول کی جانچ کے دوران جب افسران کی نظر ان اعداد و شمار پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئے۔ اتنی کم آبادی والے گاؤں میں اس پیمانے پر پیدائش کا اندراج ناممکن سمجھا جا رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ کسی منظم جعل سازی کا ہے۔

بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے اس گھوٹالے کو بڑا سائبر فراڈ قرار دیا ہے۔ بدھ کے روز گاؤں کا دورہ کرنے کے بعد انہوں نے الزام لگایا کہ گرام پنچایت کے کمپیوٹر آپریٹر کی لاگ ان تفصیلات کا غلط استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شیندور سنی کی سی آر ایس (سول رجسٹریشن سسٹم) آئی ڈی کا استعمال ممبئی سے کیا جا رہا تھا، حالانکہ اس کا تعلق مقامی پنچایت سے ہونا چاہیے تھا۔

کریٹ سومیا کا دعویٰ ہے کہ ان جعلی پیدائشی ریکارڈز میں شامل 99.99 فیصد نام مغربی بنگال، اتر پردیش اور بہار کے لوگوں کے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان جعلی سرٹیفکیٹس کا استعمال مختلف ریاستوں میں شناختی دستاویزات حاصل کرنے کے لیے کیا جا سکتا تھا، جو قومی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام 27 ہزار سے زائد پیدائشی سرٹیفکیٹس کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد ضلع کونسل نے فوراً ایک جانچ کمیٹی تشکیل دی۔ ابتدائی تفتیش میں جب یہ واضح ہو گیا کہ یہ اندراجات گرام پنچایت کے دائرہ اختیار سے باہر کے افراد کے ہیں تو معاملہ پہلے پونے کے محکمہ صحت اور پھر مہاراشٹر سے باہر نئی دہلی واقع نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) تک پہنچ گیا۔ این آئی سی کی جانچ میں بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ ایک منظم سائبر دھوکہ دہی کا کیس ہے۔ این آئی سی کی رپورٹ کی بنیاد پر ضلع صحت افسر نے پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس انسپکٹر نند کشور کالے کے مطابق، پولیس اس پورے نیٹ ورک اور اس کے پیچھے سرگرم گروہ کا سراغ لگانے میں مصروف ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس گھوٹالے میں شامل تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، کیونکہ یہ نہ صرف سرکاری نظام کے ساتھ کھلواڑ ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچانے والا معاملہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

3 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

4 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

4 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

4 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

5 hours ago