نئی دہلی: آئی آر سی ٹی سی گھوٹالہ اور دیگر متعلقہ مقدمات میں ملزم بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی سمیت دیگر کو راؤز ایونیو کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے رابڑی دیوی اور دیگر ملزمان کی جانب سے دائر کی گئی ٹرانسفر عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان کے خلاف جاری مقدمات بدستور موجودہ خصوصی جج کی عدالت میں ہی چلتے رہیں گے۔ راؤز ایونیو کورٹ کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج دنیش بھٹ کی عدالت نے رابڑی دیوی کی اس درخواست کو مسترد کیا، جس میں انہوں نے خصوصی جج ڈاکٹر وشال گوگنے کی عدالت سے اپنے مقدمات کسی دوسرے جج کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ رابڑی دیوی کا موقف تھا کہ انہیں موجودہ جج کے سامنے منصفانہ سماعت پر اعتماد نہیں رہا اور ان کے مطابق جج ان کے خلاف تعصب کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے پیش ہونے والے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ڈی پی سنگھ نے ٹرانسفر پٹیشن کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے عدالت میں دلیل دی کہ رابڑی دیوی نے اپنی عرضی میں بالواسطہ طور پر عدلیہ پر سوال اٹھائے ہیں، جو قابل قبول نہیں ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ خصوصی جج وشال گوگنے مکمل طور پر عدالتی طریقۂ کار کے مطابق سماعت کر رہے ہیں اور کسی بھی ملزم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عدالت پر دباؤ ڈالے یا جج کی غیر جانبداری پر بے بنیاد الزامات لگائے۔ سی بی آئی نے یہ بھی واضح کیا کہ کوئی بھی ملزم بار بار جج تبدیل کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اگر ہر ملزم کو اپنی سہولت کے مطابق عدالت یا جج منتخب کرنے کی اجازت دے دی جائے تو عدالتی نظام متاثر ہوگا۔ عدالت نے ان دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے رابڑی دیوی کی ٹرانسفر عرضی کو خارج کر دیا۔
رابڑی دیوی نے جن مقدمات کی منتقلی کا مطالبہ کیا تھا، ان میں آئی آر سی ٹی سی گھوٹالہ، مبینہ نوکری کے بدلے زمین یا نقدی کا معاملہ اور ان سے جڑی منی لانڈرنگ کی کارروائیاں شامل ہیں۔ عدالت نے یاد دلایا کہ 13 اکتوبر کو آئی آر سی ٹی سی معاملے میں سابق مرکزی وزیر ریلوے لالو پرساد یادو، سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت الزامات طے کیے جا چکے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آئی آر سی ٹی سی گھوٹالہ، لینڈ فار جاب معاملے سے الگ ہے، اگرچہ دونوں کا تعلق لالو پرساد یادو کے دورِ وزارتِ ریلوے سے جوڑا جاتا ہے۔ آئی آر سی ٹی سی گھوٹالہ سنہ 2004 کے آس پاس اس وقت سامنے آیا تھا، جب ریلوے بورڈ نے ریلوے کی کیٹرنگ خدمات اور ہوٹلوں کا انتظام مکمل طور پر انڈین ریلوے کیٹرنگ اینڈ ٹورزم کارپوریشن (آئی آر سی ٹی سی) کے حوالے کیا تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جھارکھنڈ کے رانچی اور اڑیسہ کے پوری میں واقع بی این آر ہوٹلوں کے رکھ رکھاؤ، آپریشن اور ترقی سے متعلق جاری کیے گئے ٹینڈرز میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں۔ اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سال 2017 میں چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو سمیت متعدد افراد اور کمپنیاں شامل ہیں۔ دوسری جانب سی بی آئی نے بھی اس معاملے میں 13 افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی ہے، جس پر عدالت نے نوٹس لیتے ہوئے سماعت شروع کر رکھی ہے۔ عدالت کے حالیہ فیصلے کو رابڑی دیوی اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اب انہیں انہی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا، جہاں پہلے سے کارروائی جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
آئی آئی ٹی کانپور میں 29 اکتوبر سے یکم نومبر تک سالانہ ثقافتی میلہ ’انتراگنی…
بھارتی مردوں نے 50-23 سے کامیابی حاصل کی، جبکہ خواتین ٹیم نے نائجیریا کو 38-10…
مدھیہ پردیش کے نیمچ ضلع میں لکھ پتی دیدی اسکیم کے مثبت نتائج سامنے آ…
FRRO کی جانب سے عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا نوٹس ملنے کے بعد معاملہ…
الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق تینوں…
پریاگ راج میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آزاد سماج پارٹی (کانشی رام)…