مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع مشہوربھوج شالہ تنازعہ پرآج ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں بھوج شالہ کومندرقراردیا ہے۔ آپ کوبتا دیں کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندوربینچ میں اس معاملے پرسال 2022 میں عرضی آئی تھی۔ گزشتہ ماہ 6 اپریل کومسلسل سماعت کے بعد 12 مئی کوہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ وہیں، عدالت نے آج جمعہ (15 مئی، 2026) کے روزاپنا فیصلہ سنادیا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ عدالت کا یہ فیصلہ مسلم فریق کے لئے بڑا جھٹکا ہے۔ ہائی کورٹ نے مسلم فریق سے کہا کہ وہ نماز پڑھنے کے لئے الگ زمین کا مطالبہ حکومت سے کرسکتے ہیں۔ زمین دینے کا فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے۔ وہیں دوسری جانب عدالت کے فیصلے کے بعد احاطے کے باہربنے ایک مندرمیں ہندو فریق کے لوگ جمع ہوکر جے شری رام کے نعرے لگا رہے ہیں اور بھگوا جھنڈے لہرائے جا رہے ہیں۔ یہ کیمپس پوری طرح سے اے ایس آئی کے کنٹرول میں رہے گا۔ ساتھ ہی ہندو فریق کوعبادت کا اختیارحاصل رہے گا۔
عدالت نے کہا کہ متنازعہ مقام پرہندوؤں کی پوجا کی روایت کبھی ختم نہیں ہوئی۔ بینچ نے حتمی فیصلے میں کہا کہ تاریخی لٹریچراورریکارڈ ثابت کرتے ہیں کہ متنازعہ علاقہ “بھوج شالہ” تھا، جسے پرمارخاندان کے بادشاہ بھوج سے منسلک سنسکرت سیکھنے کا ایک بڑا مرکزسمجھا جاتا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہم نے آثارقدیمہ اورتاریخی حقائق، اے ایس آئی نوٹیفیکیشن اور سروے رپورٹس پرغورکیا ہے۔ اے ایس آئی ایکٹ کی قانونی دفعات کے ساتھ ساتھ ایودھیا کیس میں دی گئی نظیرکی بنیاد پراورآثارقدیمہ کے ثبوت کی نوعیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے، عدالت اے ایس آئی کے ذریعہ کئے گئے اس طرح کے کثیرالضابطہ مطالعات کے نتائج پرمحفوظ طریقے سے انحصارکرسکتی ہے۔
سوشل میڈیا کی نگرانی کررہی ہے مدھیہ پردیش پولیس
واضح رہے کہ اس فیصلے سے پہلے دھارضلع میں دفعہ 163 نافذ کردی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی 5 سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پرپابندی لگا دی گئی ہے اورکسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرہ اورجلوس پر بھی روک لگائی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش پولیس سوشل میڈیا پرکسی بھی طرح کے اشتعال انگیز تبصرہ کرنے والوں کی سخت مانیٹرنگ کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پٹرول-ڈیژل کی بوتل میں فروخت پربھی سخت نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔
کیا ہے پورا تنازعہ؟
دراصل، بھوج شالہ کا یہ کیس ہندوفریق اورمسلم فریق کے درمیان ہے۔ پورا تنازعہ اس بات کا ہے کہ بھوج شالہ ہندووں کی آرادھیہ ماں واگ دیوی کے لیے وقف سرسوتی کا ایک مندرہے یا پھر کمال مولا کی مسجد ہے؟ ہندوفریق کی دلیل ہے کہ بھوج شالہ قدیم زمانے سے ماں واگ دیوی کا مندرہے۔ وہیں، مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ اس جگہ پرکمال مولا کی مسجد ہے۔ یہ معاملہ عدالت میں بھی چلتا رہا اورسماج میں بھی اسے لے کر گہماگہمی بنی رہی۔ خاص طورپروسنت پنچمی کے دن پوجا پاٹھ سے متعلق اکثریہاں کشیدگی کا ماحول رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…
پاکستانی وفد کی مداخلت کے جواب میں آجاکیہ نے کہا کہ ان کی جانب سے…
امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…
قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…
محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…