قومی

اختلاف رائے جمہوریت کی طاقت، لیکن ایوان کا وقارکم نہیں ہونا چاہئے… لوک سبھا اسپیکراوم برلا کا اپوزیشن کوپیغام

نئی دہلی: پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 21 اگست کوختم ہوا۔ سیشن کافی ہنگامہ خیزرہا۔ اس کے بعد دہلی قانون سازاسمبلی کے زیراہتمام آل انڈیا اسپیکرکانفرنس کی اختتامی تقریرمیں لوک سبھا کے اسپیکراوم برلا نے پیرکوکہا کہ اظہاررائے کی آزادی اوراراکین پارلیمنٹ کے مراعات کو ایوان کے وقارکوٹھیس پہنچانے کی آزادی کے طورپرنہیں دیکھا جانا چاہئے۔

اسپیکراوم برلا نے لوک سبھا-راجیہ سبھا کے وقارکوبرقراررکھنے میں گراوٹ پرتشویش کا اظہارکیا اورتمام اسٹیک ہولڈرزبشمول ایوانوں کے ارکان اورسیاسی جماعتوں سے اس پرغورکرنے کوکہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب ایوان کی کارروائی جاری ہوتوایوان کے اسپیکرکو مکمل طورپرغیرجانبدار، آزاد اورانصاف پسند سمجھا جائے۔

اسپیکراوم برلا نے اپوزیشن کو دیا پیغام

اوم برلا نے کہا، ہمارے آئین سازوں نے ایوان میں کچھ بھی کہنے کا حق دیا ہے، یہاں تک کہ حکومت کے خلاف بولنے کا بھی حق دیا ہے۔ لیکن، اس آزادی کے پیچھے کی نیت ماند پڑگئی ہے۔ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اسپیکرنے یہ بھی کہا کہ اس بات کویقینی بنانا ضروری ہے کہ ایوان کوعوامی مفاد کے مسائل پربحث، بحث اورغورکرنے کے مقصد سے چلایا جائے۔ انہوں نے اراکین پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ پارٹی سیاست سے اوپراٹھ کران لوگوں کی توقعات پرتوجہ مرکوزکریں، جنہوں نے انہیں منتخب کیا ہے۔ اوم برلا نے کہا کہ اظہاررائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ لوک سبھا-راجیہ سبھا میں بھی مناسب طرزعمل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، اراکین کوعوام سے متعلق مسائل اٹھانے چاہئیں۔ ایوان کوعوام کی آوازبننا چاہئے اوراپنی تجاویزاورخیالات کودرست اندازمیں پیش کرنا چاہئے۔

اپوزیشن سے بڑی اپیل
اوم برلا نے ایوان کے اندراورباہرمہذب زبان اوروقارکوبرقراررکھنے پرزوردیا۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کی مضبوطی ہے۔ لیکن اراکین ایوان کے اندراورباہرضابطہ اخلاق پرعمل کریں۔ عوام ہمارے قول وفعل کودیکھ رہی ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ آزادی اظہارکوبرقراررکھتے ہوئے ایوان کے وقارکوبرقراررکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اظہاررائے کی آزادی اوراراکین کی مراعات کو ایوان کے وقارکوکم کرنے کے لیے رعایت کے طورپرنہیں دیکھا جانا چاہئے۔ دہلی قانون سازاسمبلی کے زیراہتمام آل انڈیا اسپیکرکانفرنس نے برطانوی دورحکومت میں مرکزی قانون سازکونسل کے پہلے منتخب ہندوستانی صدروٹھل بھائی پٹیل کے انتخاب کی صد سالہ تقریب منائی۔ اوم برلا نے کہا کہ پٹیل کی نجی اورعوامی زندگی، آزادی کی جدوجہد میں ان کا کرداراوربطورصدران کا کام ہرہندوستانی کے لیے تحریک ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پٹیل کی قائم کردہ روایت بعد میں ملک کے آئین کا حصہ بن گئی، جس میں پارلیمنٹ اورقانون سازاداروں کے آزاد سکریٹریٹ بھی شامل ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

3 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

3 hours ago