نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی، جب اپوزیشن ارکان نے ایوان میں مختلف مسائل پر بحث کی مانگ کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ اپوزیشن کی بنیادی مانگیں آپریشن سندور اور بہار میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی سے متعلق تھیں، جن پر فوری بحث کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
اپوزیشن کے نعروں اور بینرز پر اسپیکر کی برہمی
لوک سبھا میں جیسے ہی کارروائی کا آغاز ہوا، اپوزیشن اراکین نے بینر اٹھا کر نعرے بازی شروع کر دی اور ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ اسپیکر اوم برلا نے کارروائی کو دوپہر تک ملتوی کرنے سے پہلے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈال رہے ہیں۔ انھوں نے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سے اپیل کی کہ وہ اپنی پارٹی کے ارکان کو ایوان میں پوسٹر دکھانے سے روکیں کیونکہ یہ پارلیمانی آداب کے خلاف ہے۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ کیا آپ ایوان میں بحث نہیں چاہتے؟ کیا آپ آپریشن سندورپر بات نہیں کرنا چاہتے؟ سوال و جواب کا وقت اراکین کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے، لیکن آپ اس کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
راجیہ سبھا بھی ہنگامے کی نذر
راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن کے احتجاج کے سبب کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نارائن سنگھ نے یوپی میں سرکاری اسکولوں کی بندش اور دیگر موضوعات پر دی گئی اپوزیشن کی 26 تحریک التوا کی درخواستیں مسترد کردیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوٹس چیئر کی جانب سے طے کردہ اصولوں پر پورا نہیں اترتے۔ اسپیکر نے یہ بھی واضح کیا کہ اب تمام نوٹس صرف ’ڈیجیٹل سنسد پورٹل‘ کے ذریعہ جمع کرائے جائیں گے، اور فزیکل نوٹسز کی منظوری ختم کر دی گئی ہے۔
پاکستانی زبان نہ بولے اپوزیشن: کرن رجیجو
ایوان میں ممکنہ بحث سے قبل، مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستانی مفادات کے خلاف نہ جائیں۔ انھوں نے کہا: “میں اپوزیشن، خاص طور پر کانگریس سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ پاکستان کی زبان نہ بولے۔ ہمیں اپنے فوجیوں کے وقار کو برقرار رکھنا ہے۔”
’آپریشن سندور‘ پر آج خصوصی بحث طے
لوک سبھا میں آج ’آپریشن سندور‘ پر خصوصی بحث طے ہے۔ یہ کارروائی جموں و کشمیر کے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ہندوستان کی فوجی جوابی کارروائی سے جڑی ہے۔ اس حملے میں 26 شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے جواب میں ہندوستان نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (PoK) میں دہشت گردی کے ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔
امریکی صدر کے بیان پر بھی اپوزیشن کا مطالبہ
اپوزیشن کا ایک اور مطالبہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود پارلیمنٹ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر وضاحت پیش کریں جس میں انہوں نے ’آپریشن سندور‘ کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ’سیز فائر‘ کروانے کا ذکر کیا ہے۔
پارلیمانی تعطل مسلسل جاری
یہ واضح ہے کہ مانسون اجلاس کے آغاز یعنی 21 جولائی سے اب تک پارلیمنٹ کی کارروائی بار بار تعطل کا شکار رہی ہے۔ اپوزیشن قومی مفاد سے جڑے ان اہم موضوعات پر حکومت کو ایوان میں جواب دہ بنانے کے لیے زور دے رہی ہے، لیکن حکومتی ردعمل اور ایوان کے نظم و ضبط کے درمیان ٹکراؤ نے ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…