وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ووکَل فار لوکل‘ اور ’لوکل ٹو گلوبل‘ وژن کا اثر اب زمینی سطح پر واضح طور پر نظر آنے لگا ہے۔ اس وژن کی بدولت نہ صرف مقامی صنعتوں کو فروغ ملا ہے بلکہ ہزاروں محنت کشوں کی زندگیاں بھی بدل گئی ہیں۔ بہار میں قائم مکھانا فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ جو لوگ کبھی روزگار کی تلاش میں ممبئی اور غازی آباد جیسے بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور تھے، آج وہ اپنے ہی صوبے میں باعزت روزگار اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔
مزدوروں کے مطابق، پہلے دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے گھر، خاندان اور گاؤں سے دور رہنا پڑتا تھا۔ بڑے شہروں میں نہ صرف رہائش اور اخراجات زیادہ تھے بلکہ خاندانی زندگی بھی متاثر ہوتی تھی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ انہیں اپنے ہی علاقے میں کام مل رہا ہے، بہتر آمدنی ہو رہی ہے اور خاندان کے ساتھ رہنے کا موقع بھی میسر ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا سہرا وزیر اعظم مودی کے اسی وژن کو جاتا ہے جس میں مقامی مصنوعات کو عالمی منڈی تک پہنچانے کا عزم شامل ہے۔
مکھانا فیکٹری میں کام کرنے والے شتروگھن کمار شرما نے بتایا کہ وہ اس سے قبل ممبئی اور ہردا میں مزدوری کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے شہروں میں رہتے ہوئے کرایہ، کھانا اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے بعد بچت ممکن نہیں ہوتی تھی۔ اب وہ اپنے گاؤں کے قریب فیکٹری میں کام کر رہے ہیں، آمدنی بھی بہتر ہے اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا سکون بھی حاصل ہے۔ شتروگھن کے مطابق، اگر آج ان کی زندگی میں استحکام آیا ہے تو اس کی بنیادی وجہ حکومت کی وہ پالیسی ہے جس نے مقامی صنعتوں کو سہارا دیا۔
اسی طرح جے پریت کمار نے بتایا کہ وہ پہلے غازی آباد میں کام کرتے تھے۔ گزشتہ دو برسوں سے وہ مکھانا فیکٹری سے وابستہ ہیں اور ماہانہ تقریباً 35000 روپے کما رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب نہ صرف اچھی بچت ہو رہی ہے بلکہ سماجی احترام بھی ملا ہے۔ جے پریت کے مطابق، جب بھی وزیر اعظم مکھانا کا ذکر کرتے ہیں تو فیکٹری میں کام کرنے والے تمام مزدوروں کو فخر محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اس سے ان کی محنت کو پہچان ملتی ہے۔
مکھانا کے برآمد کنندہ منیش کشواہا نے بھی وزیر اعظم کے وژن کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج سیکڑوں لوگوں کو مکھانا صنعت کے ذریعے روزگار مل رہا ہے تو یہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے جس نے مقامی مصنوعات کو عالمی منڈیوں سے جوڑا۔ جی آئی ٹیگ ملنے کے بعد مکھانا کو بین الاقوامی سطح پر شناخت حاصل ہوئی ہے اور بیرونِ ملک خریدار بھی اس میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اب بہار کا مکھانا دبئی سمیت کئی ممالک میں برآمد کیا جا رہا ہے۔
منیش کشواہا نے کہا کہ ریاست میں نتیش کمار اور مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں جو اقدامات کیے گئے، انہوں نے دیہی معیشت کو مضبوط کیا۔ آج ان کی فیکٹری میں خواتین اور مرد یکساں طور پر کام کر رہے ہیں، کئی میاں بیوی بھی ساتھ ملازمت کر رہے ہیں اور سب کو مناسب اجرت مل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل نہ صرف روزگار پیدا کر رہا ہے بلکہ ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی سمت ایک مضبوط قدم بھی ثابت ہو رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جے پی انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، نوئیڈا میں 28 سے 30 جنوری 2027 تک…
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا، اردو کسی ایک مذہب یا ملک کی زبان نہیں…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں بھارت ایکسپریس اردو کے…
بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو کا نئی دہلی میں آغاز، سی ایم ڈی…
آر ایس ایس سربراہ نے نوجوانوں، تعلیم، برین ڈرین اور کردار سازی پر خیالات کا…
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…