نئی دہلی: یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) نے 22 اپریل 2025 کو سول سروسز امتحان 2024 کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سال مجموعی طور پر 1,009 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بار 26 مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کر کے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ حالانکہ، اس بار کوئی بھی مسلم امیدوار ٹاپ 25 فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ تاہم ارم چودھری اور فرخندہ قریشی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹاپ 100 میں اپنی جگہ ضرور بنائی ہے، جو کہ اقلیتی برادری کے لیے حوصلہ افزا خبر ہے۔
UPSC کے مطابق، اس سال 97 مسلم امیدواروں نے سول سروسز مین امتحان 2024 کو کامیابی سے پاس کیا تھا اور انہیں پرسنالٹی ٹیسٹ (انٹرویو) کے لیے مدعو کیا گیا تھا، جو 7 جنوری سے 17 اپریل 2025 کے درمیان منعقد ہوئے۔
یوپی ایس سی 2024 ٹاپرز
پریاگ راج کی شکتی دوبے نے آل انڈیا رینک 1 حاصل کی، جب کہ ہرشتا گوئل اورڈونگرے ارچت پراگ نے بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔
کامیاب مسلم امیدواروں کی فہرست
1- ارم چودھری
2- فرخندہ قریشی
3- محمد منیب بھٹ
4- ادیبہ انعم اشفاق احمد
5- ثانیہ سیروی
6- وسیم الرحمٰن
7- محمد نایاب انجم
8- محمد حارث میر
9- محمد شوکت عظیم
10- الیفا خان
11- نجمہ اے سلام
12- شکیل احمد
13- شاہ محمد عمران محمد عرفان
14- محمد آفتاب عالم
15- محسنہ بانو
16- سید محمد عارف معین
17- حسان خان
18- غلام حیدر
19- محمد صلاح ٹی اے
20- صدف ملک
21- یاسر احمد بھٹی
22- جاوید میو
23- پیرزادہ ایم عمر
24- نذیر احمد بجران
25- ارشد عزیز قریشی
26- اقبال احمد
یہ کامیابیاں نہ صرف ان طلبہ کی محنت کا نتیجہ ہیں بلکہ اُن تمام نوجوانوں کے لیے بھی ایک مثال ہیں جو ملک کی اعلیٰ ترین سول خدمات میں جگہ بنانے کا خواب رکھتے ہیں۔ یہ فہرست اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی اقلیتیں بھی اپنی قابلیت اور استقامت سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ مختلف طبقات کے امیدواروں کی شمولیت نے سول سروسز کو زیادہ جامع اور نمائندہ بنا دیا ہے۔
یہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگرچہ مسلم امیدواروں کی ٹاپ رینکس میں نمائندگی محدود رہی، لیکن ان کی موجودگی اور مستقل جدوجہد قابل تعریف ہے۔ سول سروسز جیسے سخت امتحان میں کامیابی حاصل کرنا ایک بڑا کارنامہ ہے، اور یہ نوجوان نسل کے لیے امید اور تحریک کا پیغام ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنے طلبہ کو اس جانب راغب کریں ، انہیں وسائل فراہم کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ ہم اپنے طلبہ کو بتائیں کہ ایک یا دو بار میں کامیاب نہیں ہوئے تو ہمت نہ ہار جائیں بلکہ جدوجہد جاری رکھیں کہ یہ امتحان جہد مسلسل ہی کا نام ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…