نئی دہلی :راہل گاندھی کے لوک سبھا میں بیان کے بعد جمعہ کو ایوان میں زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ حد بندی اور خواتین ریزرویشن پر جاری بحث کے دوران راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں بالواسطہ طور پر وزیر اعظم مودی پر نشانہ سادھتے ہوئے “جادوگر” کا ذکر کیا، جس پر حکمراں جماعت کے ارکان نے شدید اعتراض کیا۔صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب اوم برلا نے مداخلت کرتے ہوئے راہل گاندھی کو ٹوکا اور کہا کہ ایوان کی کارروائی وقار کے ساتھ چلنی چاہیے۔ انہوں نے کہا، “یہ پارلیمنٹ ہے، چوراہا نہیں۔ جو باتیں باہر کہی جاتی ہیں، وہ یہاں نہیں کہی جا سکتیں۔” انہوں نے راہل گاندھی سے کہا کہ وہ بل کے موضوع پر ہی توجہ مرکوز رکھیں۔
راہل گاندھی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے لیے اس طرح کی زبان کا استعمال “غیر آئینی” اور “انتہائی افسوسناک” ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس شخصیت کو ملک کی عوام نے وزیر اعظم منتخب کیا ہو، اس کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال پورے ملک کی توہین کے مترادف ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی کے بیان کو ایوان کی کارروائی سے حذف کیا جائے اور وہ عوام سے معافی مانگیں۔دوسری جانب مرکزی وزیر کرن ریجیجونے بھی راہل گاندھی کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے “غیر پارلیمانی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات ایوان کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور پارلیمانی روایات کے خلاف ہیں۔بعد ازاں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ راہل گاندھی کے بیان کو کارروائی سے حذف کر دیا جائے گا۔ اس معاملے کے بعد ایوان میں سیاسی گرما گرمی مزید بڑھ گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
سی جے پی رہنما سورَو داس نے کہا کہ وہ جنتر منتر میں داخل ہو…
پنجاب کے ایک کسان خاندان سے تعلق رکھنے والی ہرجندر کور نے مشکلات کے باوجود…
پوسٹر میں سماج وادی پارٹی کی حکومت کے دوران خواتین کی سلامتی کے لیے شروع…
راہل گاندھی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ جب تک عرضی میں اٹھائے…
دہلی ٹریفک پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں ٹریفک متاثر…
ٹرسٹ کے سکریٹری عاصم رضا کے مطابق ایوارڈ آئندہ یکم نومبر کو دوپہر ڈھائی بجے…