بیروت/تل ابیب: اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان کو عالمی سطح پر مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد لبنان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، جہاں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور آتش بازی کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ جنگ بندی نے نہ صرف مقامی سطح پر سکون کا احساس پیدا کیا بلکہ بین الاقوامی برادری نے بھی اسے امن کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ ایران نے اس جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی ایک مثبت اقدام ہے اور اس سے کشیدگی کم ہونے کی امید ہے۔ تاہم ایران نے یہ بھی اشارہ دیا کہ یہ پیش رفت وسیع تر سفارتی کوششوں کا حصہ ہے، جس پر بعض عالمی حلقوں میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس سے قبل ہونے والی کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ امریکی قیادت کے مطابق اس حوالے سے پیدا ہونے والی کچھ غلط فہمیاں دور کر دی گئی ہیں اور موجودہ جنگ بندی ایک الگ پیش رفت ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے بھی جنگ بندی کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ اگر فوجی کارروائیاں مکمل طور پر بند نہ ہوئیں تو یہ معاہدہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرحد کے دونوں جانب عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ میکرون نے مزید کہا کہ لبنان کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے اور تمام فریقین کو جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا اور اسے سفارتی کوششوں کی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ انہوں نے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کے قیام کے لیے عالمی کوششوں کا ساتھ دیتا رہے گا۔ خلیجی ممالک نے بھی اس پیش رفت کو سراہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی خطے میں استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔ اردن نے لبنان کی قیادت کے مثبت کردار کی تعریف کی اور اسے امن کے قیام میں اہم عنصر قرار دیا۔
سعودی عرب اور عمان نے بھی الگ الگ بیانات میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی مکمل پاسداری کریں۔ دونوں ممالک نے اس بات پر خاص زور دیا کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے امن کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ مصر نے اسرائیل سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں 2006 کی جنگ کے بعد مکمل جنگ بندی اور عسکری سرگرمیوں کے خاتمے پر زور دیا گیا تھا۔ نیوزی لینڈ نے بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور مستقل امن کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کرنی ہوگی۔ مجموعی طور پر عالمی برادری اس جنگ بندی کو ایک نازک مگر امید افزا موقع قرار دے رہی ہے، جس کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، بشرطیکہ تمام فریقین سنجیدگی سے اس پر عمل کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز میں زبردست تیزی کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں…
کمپنی کے منصوبے کے مطابق نئے گرائنڈنگ پلانٹس کے ذریعے مغربی خطے میں 15.5 ایم…
امرتسر نارتھ کے رکنِ اسمبلی کنور وجے پرتاپ سنگھ نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار…
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا یہ مقدمہ رام پور میں ’مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ‘…
نیوزی لینڈ میں وراٹ کوہلی نے اب تک مجموعی طور پر 11 ون ڈے میچ…
کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے…