سری نگر: جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر آئینی حقوق اور ریاستی اختیارات کی بحالی کا مسئلہ زیر بحث آ گیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا ہے کہ وہ دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے پارٹی کے احتجاج میں شرکت کریں گے، تاہم ان کے مطابق اس تحریک کا بنیادی مقصد صرف ریاستی درجہ (اسٹیٹ ہڈ) کی بحالی نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 370 اور 2019 سے قبل حاصل آئینی تحفظات کی واپسی بھی ہونا چاہیے۔ منگل کے روز ضلع پلوامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ مہدی نے کہا کہ وہ مجوزہ احتجاج کا حصہ ضرور بنیں گے، لیکن اس جدوجہد کو محض ایک روزہ سیاسی پروگرام تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لیے ایک مسلسل، منظم اور وسیع سیاسی تحریک کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک احتجاج یا ایک علامتی مظاہرہ عوامی مسائل کا حل نہیں بن سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی سیاسی مہم چلائی جائے جو خطے کے عوام کو درپیش تمام بنیادی مسائل کو اجاگر کرے اور ان کے حل کے لیے مسلسل دباؤ برقرار رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2019 کے بعد پیدا ہونے والی آئینی اور سیاسی صورتحال نے جموں و کشمیر کے عوام خصوصاً نوجوان نسل کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آغا روح اللہ مہدی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقل اور پائیدار امن صرف انصاف کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، محض علامتی اقدامات یا وقتی سیاسی اعلانات سے نہیں۔ ان کے مطابق جب تک عوام کے بنیادی حقوق، آئینی تحفظات اور سیاسی مطالبات کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک خطے میں حقیقی اطمینان اور استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے زمین کے حقوق، روزگار کے مواقع اور ریزرویشن پالیسیوں کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا الزام تھا کہ مقامی آبادی کو ان کے جائز حقوق اور وسائل سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دیہی علاقوں، خصوصاً پلوامہ اور دیگر زرعی خطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف پابندیوں اور پالیسیوں کے باعث مقامی معیشت اور کسانوں کی روزی روٹی متاثر ہو رہی ہے، جو عوامی بے چینی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران کیے گئے متعدد سیاسی اور انتظامی وعدے اب تک پورے نہیں کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق بہتر طرز حکمرانی اور مؤثر انتظامی اقدامات سے وقتی طور پر کشیدگی کم ہو سکتی ہے، لیکن جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے عوامی ناراضگی برقرار رہے گی۔
آغا روح اللہ مہدی نے اپنی جماعت نیشنل کانفرنس کی قیادت پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی نے 2024 کے انتخابی منشور میں عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے انہی وعدوں کی بنیاد پر پارٹی پر اعتماد کیا تھا، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان وعدوں پر عملدرآمد کی رفتار توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ سیاسی حلقوں کے مطابق انہی اختلافات کے باعث آغا روح اللہ مہدی اور پارٹی قیادت کے درمیان فاصلے پیدا ہوئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ حالیہ عرصے میں انہیں پارٹی کی اہم میٹنگز میں مدعو نہیں کیا جا رہا، جبکہ وہ خود بھی جماعتی سرگرمیوں سے کسی حد تک الگ تھلگ دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آغا روح اللہ مہدی کے تازہ بیانات نہ صرف جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ نیشنل کانفرنس کے اندر پائے جانے والے اختلافات کو بھی نمایاں کرتے ہیں، جو آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…