واشنگٹن: امریکہ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ یہ حملے ایک روز قبل ایران کی جانب سے امریکی فوج کے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کے واقعے کے بعد کیے گئے۔ اس بات کی اطلاع امریکی سینٹرل کمان نے دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ’’انتہائی شدید اور غیر معمولی طاقت کے حامل‘‘ تھے۔ امریکی سینٹرل کمان کے مطابق صدر کے احکامات پر یہ کارروائیاں شام پانچ بجے امریکی مشرقی وقت کے مطابق شروع کی گئیں، جو عالمی وقت کے مطابق رات نو بجے بنتا ہے۔
جنوبی ایران میں دھماکوں کی اطلاعات
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حملوں کے اعلان کے بعد بدھ کی علی الصبح جنوبی ایران کے بندر عباس، جزیرہ قشم، ضلع سیریک اور ضلع جاسک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سیریک، جزیرہ قشم اور جنوبی شہر میناب میں کم از کم چھ دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کو امریکی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایا۔
اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کا دعویٰ
اس سے قبل منگل کے روز صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کے ایک ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے اور امریکہ اس کارروائی کا جواب دے گا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ایرانی فورسز نے گزشتہ رات آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کرنے والے ایک جدید امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں موجود دونوں پائلٹ محفوظ رہے اور انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔ حالانکہ، ان کے بقول اس حملے کا جواب دینا امریکہ کے لیے ضروری تھا۔
عملہ محفوظ، کشیدگی برقرار
ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا تھا، لیکن اس میں سوار دونوں اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ دوسری جانب خطے میں کشیدگی بدستور انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کے چیف ایال زمیر نے ملک کے شمالی حصے میں جاری ایک فوجی مشق کے دوران کہا کہ حالیہ حملے دراصل اس سے کہیں بڑے اور زیادہ طاقتور آپریشن کی تیاری کا حصہ ہیں۔
اسرائیل کی مزید کارروائی کی وارننگ
ایال زمیر نے کہا کہ اسرائیلی دفاعی افواج ضرورت پڑنے پر دوبارہ کارروائی کرنے اور ایران کو مزید سخت اور وسیع پیمانے پر نقصان پہنچانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق فوج نے نئے آپریشن کے آغاز کے لیے اپنی تیاری اور چوکسی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
لبنان میں بھی اسرائیلی حملے
امریکی حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اسرائیل نے منگل کے روز جنوبی لبنان میں بھی اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…