نکسلیوں کی حمایت میں نعروں نے ملک کی راجدھانی دہلی میں ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ انڈیا گیٹ کے قریب فضائی آلودگی کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین انڈیا گیٹ کے قریب پلے کارڈز لے ہوئے حتجاج کررہے تھے،اس احتجاج ہر عمر کےافراد نے بڑی تعداد میں انڈیا گیٹ پراحتجاج درج کیا۔ اچانک آلودگی کے خلاف اس احتجاج کے اندر سے نکسلیوں کی حمایت کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔لال سلام کے نعرے لگنے لگے اور کہا جانے لگا ’’جتنے ہڈما مارو گے، ہر گھر سے ایک ہڈما نکلے گا۔ یہ احتجاج دہلی حکومت کے خلاف آلودگی کے معاملے پر شروع کیا گیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نکسلائیٹ کمانڈر مادوی ہڈما کے لیے “امر رہے” جیسے نعرے لگائے گئے، جس نے تنازعہ کو جنم دیا۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ احتجاج کے دوران کئی نوجوانوں کو “کامریڈ ہدما زندہ باد” اور “کامریڈ ہدما کو لال سلام” کے نعرے لگاتے سنا گیا۔ آلودگی کے خلاف جاری احتجاج کے درمیان انڈیا گیٹ پر سیکورٹی سخت ہے۔ انڈیا گیٹ کو سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا ہے، اور سی ہیکسن روڈ پر ٹریفک بھی بند ہے۔ یہ نوجوان نکسل ازم کی حمایت میں سخت سیکورٹی کے باحودنعرے لگا رہے ہیں، تشویش کا باعث ہے۔
نکسلائیٹ مادوی ہڈما کون مطلوب تھا؟
18 نومبر کوسیکورٹی فورسز نے نکسل مخالف آپریشن میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی، جس میں طویل عرصے سے مطلوب نکسلی کمانڈر مادوی ہڈما کو ہلاک کر دیا۔ 51 سالہ مادوی ہڈما اور ان کی بیوی مڈکم راجے کو انکاؤنٹر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ چھتیس گڑھ اور آندھرا پردیش کی سرحد پر اس انکاؤنٹر میں ہڈما کے ساتھ کئی دوسرے نکسلائیٹس بھی مارے گئے۔ چھتیس گڑھ پولیس نے اس وقت ایک بڑا بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہڈما کی موت “نکسلیزم کے تابوت میں آخری کیل” تھی۔ بدنام زمانہ ماؤنواز کمانڈر مادوی ہڈما تقریباً 26 بڑے حملوں کا ذمہ دار تھا۔ اس پر گزشتہ 34 سالوں میں 367 قتل کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان میں تقریباً 260 سیکورٹی اہلکار اور 107 عام شہری شامل تھے۔ ان کے بڑے حملوں میں 2010 کا دنتے واڑہ حملہ بھی شامل ہے ،جس میں 76 سی آر پی ایف اہلکار شہید ہوئے تھے۔ اس پر 45 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔
ان حملوں میں نکسلی کمانڈر ہڈما ملوث تھا
ہڈما نے چھتیس گڑھ میں اب تک کے سب سے بڑے نکسلی حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ان کی قیادت میں تقریباً 26 حملے کیے گئے، جن میں 2010 کا دنتے واڑہ حملہ، 2013 کا دربھ وادی حملہ، 2013 کا جھیرام ویلی حملہ، اور 2017 کا سکما حملہ شامل ہے۔دنتے واڑہ حملے میں 76 فوجی مارے گئے، جب کہ جھرم وادی حملے میں 32 افراد ہلاک ہوئے، جن میں کانگریس کے کئی اہم رہنما بھی شامل تھے۔ اس نے 2021 کے جونا گوڈا انکاؤنٹر جیسے بڑے قتل عام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایرانی عدلیہ کے مطابق حسین پدران نے اصفہان میں فوجی اور میزائل تنصیبات سے متعلق…
مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اے بی وی…
فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ جیسے ممالک میں ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں طلبہ…
ڈبل اولمپک میڈلسٹ منو بھاکر نے کہا، بھارتی دستے کی قیادت کرتے ہوئے ترنگا تھامنا…
اڈانی گروپ نے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت داری کی تجدید کی، جاپان…