قومی

Ketan Agarwal Murder Gait Analysis: پونے قتل کیس میں کیا ہے گیٹ اینالیسس ٹیسٹ؟ یہ جدید تکنیک کیسے بڑے سے بڑے مجرم کے کرتی ہے راز فاش؟

مہاراشٹر کے مشہور کیتن اگروال قتل کیس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ ابتدا میں ایک عام ٹریکنگ حادثہ سمجھی جانے والی یہ موت اب ایک پیچیدہ قتل کیس کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کی تفتیش میں پونے دیہی پولیس جدید فرانزک سائنس کا سہارا لے رہی ہے۔

پولیس نے کیس کے مرکزی ملزم چیتن چودھری، جو مقتول کی منگیتر کا مبینہ عاشق بتایا جا رہا ہے، کو لوہ گڑھ قلعے لے جا کر اس کا گیٹ اینالیسس (Gait Analysis) یعنی چال ڈھال کا سائنسی تجزیہ شروع کیا ہے۔ اس ٹیسٹ کا مقصد سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے مشتبہ شخص کی شناخت کو سائنسی شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہے۔

گیٹ اینالیسس کیا ہوتا ہے؟

گیٹ اینالیسس کسی بھی شخص کے چلنے، دوڑنے یا کھڑے ہونے کے انداز کا سائنسی مطالعہ ہے۔ فرانزک ماہرین کے مطابق جس طرح ہر انسان کے فنگر پرنٹس اور ڈی این اے منفرد ہوتے ہیں، اسی طرح ہر فرد کی چال بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ جب کوئی ملزم واردات کے دوران ماسک، نقاب یا ہُڈی پہن کر اپنا چہرہ چھپا لیتا ہے تو فرانزک ماہرین اس کی ریڑھ کی ہڈی کے جھکاؤ، قدموں کی لمبائی، گھٹنوں کے زاویے اور کندھوں کی حرکت کا تھری ڈی تجزیہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان خصوصیات کا موازنہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے شخص سے کیا جاتا ہے تاکہ اس کی شناخت کی جا سکے۔

پونے قتل کیس میں اس ٹیسٹ کی اہمیت

تفتیش کے مطابق واردات والے دن لوہ گڑھ قلعے کے داخلی اور خارجی راستوں پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں ایک نوجوان ہُڈی پہن کر انتہائی تیزی سے آتے جاتے ہوئے نظر آیا تھا۔ اس نے تقریباً 50 منٹ میں قلعے کی چڑھائی اور واپسی مکمل کی تھی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ شخص چیتن چودھری ہی تھا، لیکن چونکہ اس نے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا، اس لیے عدالت میں شناخت سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ اسی قانونی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے پولیس چیتن کو اسی مقام پر اسی انداز میں چلوا کر اس کی چال کا سی سی ٹی وی فوٹیج سے موازنہ کر رہی ہے، تاکہ عدالت میں مضبوط سائنسی ثبوت پیش کیے جا سکیں۔

یہ ٹیسٹ کیوں کیا جاتا ہے؟

آج کل کئی شاطر مجرم واردات کے دوران دستانے پہن لیتے ہیں تاکہ فنگر پرنٹس نہ مل سکیں، جبکہ موبائل فون بھی بند یا دوسری جگہ چھوڑ دیتے ہیں تاکہ لوکیشن ٹریس نہ ہو۔ ایسے حالات میں گیٹ اینالیسس تفتیش کا ایک مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔ جب کسی کیس میں براہِ راست عینی شاہد موجود نہ ہو تو یہ تکنیک حالات و شواہد کی کڑیوں کو جوڑنے میں مدد دیتی ہے۔ فرانزک ماہرین کی رپورٹ عدالت میں ایک مضبوط سائنسی شہادت سمجھی جاتی ہے، جسے چیلنج کرنا آسان نہیں ہوتا۔

دیگر اہم مقدمات میں بھی استعمال

گیٹ اینالیسس تکنیک اس سے قبل کئی ہائی پروفائل مقدمات میں بھی استعمال ہو چکی ہے۔

  • دہلی کا شردھا واکر قتل کیس: ملزم آفتاب پونا والا نے چہرہ چھپایا ہوا تھا، مگر سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس کی چال کا تجزیہ کرکے شناخت مضبوط کی گئی۔
  • بنگلورو رامیشورم کیفے دھماکہ کیس: ماسک، ٹوپی اور چشمہ پہننے والے مشتبہ شخص کی شناخت قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اس کے چلنے کے انداز کے ذریعے کی۔
  • پونے پورش کار حادثہ کیس: اس مقدمے میں بھی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی موجودگی اور نقل و حرکت کی تصدیق کے لیے گیٹ اینالیسس کا استعمال کیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Dharavi Redevelopment Project: دھاراوی کے لوگوں کے لیے بڑی شروعات، 10,432 نئے مکانات کی تعمیر شروع، اڈانی گروپ نے کیا بھومی پوجن

اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…

3 hours ago

INDIA Alliance Big Rally Plan: ووٹ چوری کے معاملے پر انڈیا اتحاد کی بڑی تیاری، دسمبر میں رام لیلا میدان سے طاقت دکھانے کا منصوبہ

دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں بڑی ریلی منعقد کرنے کی تیاری، ملک بھر…

4 hours ago

INDIA Alliance Massive Protest Against Vote Chori: ووٹ چوری کا معاملہ، سڑک سے سپریم کورٹ تک عوامی سیلاب، کب کیا ہوا؟ جانیے مکمل ٹائم لائن

ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا دہلی میں زبردست احتجاج،…

4 hours ago