قومی

Bharat Express Urdu Conclave: ’جب تک دنیا میں عشق باقی ہے، عشق کی خواہش باقی ہے، تب تک اردو بھی باقی ہے‘: بھارت ایکسپریس اردو کانکلیو میں جشن بہار ٹرسٹ کی بانی کامنا پرساد کا اظہار خیال

نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، لودھی روڈ میں 26 نومبرکو’بزمِ صحافت‘ کے تحت بھارت ایکسپریس اردو کانکلیو کا شانداراورتاریخی انعقاد کیا گیا۔ اس کانکلیو کا افتتاح دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کیا۔ ریکھا گپتا نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی جبکہ آرٹ، کلچراینڈ لینگویجزکے وزیرکپل مشرا بطورمہمان اعزازی شامل ہوئے۔ اس سیشن کی صدارت بھارت ایکسپریس کے چیئرمین، سی ایم ڈی اورایڈیٹران چیف اپیندررائے نے کی۔ سیاسی، ثقافتی وادبی اعتبارسے یہ پروگرام نہایت اہم ثابت ہوا، جس میں ملک بھر سے سیکڑوں کی تعداد میں اردو زبان کے چاہنے والے، ادیب، اسکالرز، صحافی اور طلبہ شریک ہوئے۔

اس دوران ملک کے معروف ادیب، اسکالرز نے ’ہندوستان کی سیاست میں اردو کے کردار‘ پراپنے خیالات کا اظہارکیا۔ جشن بہارٹرسٹ کی بانی کامنا پرساد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے بارے میں بات کرنے کے لیے لازمی طورپرماضی اورحال پربھی ایک نظرڈالنی پڑے گی۔ اردو صحافت اوراردوکے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان نے کئی حکومتوں کے دوردیکھے ہیں اورابتداء سے ہی اس زبان نے اردو بازارسے لے کر قلعہ معلیٰ تک ترقیوں کے زینے اس شان سے چڑھے کہ انگریزوں کو بھارت میں حکومت کرنے کے لیے اردوزبان کو سیکھنا پڑا۔ باقاعدہ اردو پڑھنے اورپڑھانے کے لیے انہوں نے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج قائم کیا جہاں انگریزوں نے اردو سیکھی اوراردوادب پرتحقیق بھی کی۔

انگریزوں نے اپنے مفاد کے لیے پہلا ماہنامہ وہیں خیرخواہ ہند کے نام سے نکالا اور پھرکلکتہ سے ہی اردورسائل شائع کرنے کی شروعات بھی کی۔ مغلوں کے بعد برطانوی حکومت کے زمانے میں بھی اردوکا پرچم بام عروج پررہا۔ انگریزوں کے ظالمانہ دورسے تنگ آکرجب آزادی کا بگل بجا توسب سے پہلے اردو نے ہی اس تحریک کواپنے ماتھے کا تلک بنایا۔ انقلاب زندہ باد کے نعرے نے برطانوی حکومت کی بنیاد ہلا دی تھی۔ عشق و محبت کی یہ شیریں زبان جنگ آزادی میں بغاوت کا پرچم لہراتی ہوئی ایک برہنہ شمشیربن کرابھری۔ ملک کی آزادی میں اردو کی خدمات اورکردارپراگربات کی جائے توپھرایسی کئی محفلیں درکارہوں گی۔

تبدیلی قدرت کا نظام ہے اورترقی کی ضمانت بھی۔ اگرمختلف تہذیبوں اورزبانوں کا ایک ہوجانا اردوکی پیدائش کی حقیقت ہے تویہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ سب کا ساتھ، سب کا وشواس، سب کا پریاس حکومت ہند کا یہ مشن دراصل اردوکی فطرت ہے۔ ترقی پذیرنئے بھارت کے ساتھ ہم سفری کے لیے اردوبھی سفرکے لیے نکل چکی ہے۔ یہ زبان گنگا اورجمنا کے کناروں کوجوڑتی ہے، دہروحرم کے فاصلوں کومٹاتی ہے اوراب تواپنے جدید ڈیجیٹل اوتارمیں مشرق اورمغرب کی سرحدوں کو بے اثرکردیتی ہے۔ ڈیجیٹل انقلاب نے اس خالص ہندوستانی زبان کی رسائی کو دنیا بھر میں آسان اور ہموارکیا ہے۔ جہاں جہاں کو ئی اردو زبان بولتا ہے، وہاں وہاں میرا ہندوستان بولتا ہے۔

انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اورسیٹیلائٹ چینلوں پرسجتی ہوئی اردو کی ہزاروں تفریحی اورمعلوماتی محفلیں اس زبان کوتازگی اورطاقت عطا کررہی ہیں۔ یہ مبارک کام بھارت ایکسپریس نیوزچینل بخوبی انجام دے رہا ہے اورجدیدیت کے تقاضوں کے ہم قدم رہ کرزبان اردو نے خود کومزید، لچکداراورآسان بھی بنایا ہے۔ قوائد کی پابندیاں حسب ضرورت ڈھیلی کی گئیں اورتلفظ، املا اور جنس کے مسائل کوآسان بنایا گیا۔ اب یہ زبان ایک نئے ذہن کی نمائندگی کررہی ہے، جہاں نہ صنف کی بندشیں ہیں اورنہ تحریکوں اوراسٹائلزکی سرحدیں۔ اردوکا دامن اتنا وسیع ہیں کہ مختلف زبانوں کے ساتھ ساتھ انگریزی اور پُرْتُگِیز وغیرہ کے الفاظ بھی شامل ہیں۔ آج اردو روایتی رسم الخط تک محدود نہیں رہی بلکہ دوسری زبانوں میں بھی لکھی جا رہی ہے۔ پر یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی زبان کی روح اس کا رسم الخط ہوتا ہے اور ایسے میں ہمیں اپنے بچوں کو اردو زبان سے روشناش کرانے کے ساتھ رسم الخط سیکھنے کی طرف راغب کرانا چاہٸے۔ شروعات ذرا مشکل ہے بس ایک بار نئی نسل اس سے آشنا ہوگئی تو انشاء اللہ اس کی مٹھاس پوری زندگی رہے گی۔

ہماری نئی نسل جس ہمت، حوصلے اور جوش و جذبے کے ساتھ اردو کا علم سنبھالے ہے تو اسے دیکھ کر یقین ہو چلا ہے اردو تکنیک کی نئی نئی جہتیں ایجاد کرکے سارے عالم میں اپنی روشن پہچان بنائے رکھے گی۔ اردو کا عوام میں مقبولیت حاصل ہے۔ روزمرہ کی زبان ہو یا ادب کی محفل ہمارے گھر آنگن اور بازار تک، بازار سے اخبار تک، اخبار سے دربار تک اردو ہر طبقے کی ضرورت ہے، ہر ماحول کی رونق ہے۔ ایوان صدر ہوں، رکن پارلیمنٹ ہوں یا پھر رکن اسمبلی سب کو اردو کی ضرورت پڑتی ہے۔ سب کو اپنی بات رکھنے کے لیے اردو شاعری کا سہارا لیتے ہیں۔ اردو بھارت کی رگوں میں گردش کرتی ہے۔ نئے بھارت میں اردو کا مقام اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب ہے جس کے ہم سب وارث اور امین ہیں۔

آنے والے دور میں بھی محبت کے پیغام کے ساتھ اردو کا کردار منفرد، نمایاں اور ہمیشہ وقت سے آگے رہے گا۔ اس کی جڑیں صرف ہماری شاعری، ادب، میوزک اور فلموں تک محدود نہیں ہیں بلکہ ہمارے سماج، ہماری زندگی، ہمارے وجود کے ہر پہلو پر گہرائی سے سمائی ہوئی ہے۔ مختصر سی بات یہ ہے کہ اردو بھارتی زبانوں کی ڈی این اے ہے۔ اردو کا سفر نئے بھارت اور اس کے بعد بھی پورے آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گا۔ دوستوں جب تک دنیا میں عشق باقی ہے، عشق کی خواہش باقی ہے، میں باقی ہے اور مہتاب باقی ہے، تب تک اردو بھی باقی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Iran Executes Spying Person: اسرائیل کے لیے خفیہ معلومات بھیجنے کے الزام میں شخص کو ایران نے دے دی پھانسی

ایرانی عدلیہ کے مطابق حسین پدران نے اصفہان میں فوجی اور میزائل تنصیبات سے متعلق…

20 minutes ago

Lalan Singh JDU Prabodhan Programme: جنتا دل یونائیٹڈ کے پروگرام میں غیر حاضری پر لالن سنگھ کی وضاحت، کہا ’میں گجرات میں تھا‘

مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا…

1 hour ago

Education Standards in Europe: یورپ میں تعلیم کا گرتا معیار، ’پیسا‘ کے نتائج نے بڑھائی تشویش

فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ جیسے ممالک میں ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں طلبہ…

2 hours ago

Emotional Manu Bhaker: ’مجھے جسپال رانا سر کی بہت یاد آئی‘، ایشین گیمز 2026 کی افتتاحی تقریب کے بعد جذباتی ہوئیں منو بھاکر

ڈبل اولمپک میڈلسٹ منو بھاکر نے کہا، بھارتی دستے کی قیادت کرتے ہوئے ترنگا تھامنا…

2 hours ago

Asian Games-2026: گلاسگو کے بعد ایشین گیمز میں بھی آئی او اے کا ’پرنسپل اسپانسر‘ بنا اڈانی گروپ

اڈانی گروپ نے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت داری کی تجدید کی، جاپان…

3 hours ago