16 آندھرا پردیش: ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے کڑپہ کے الماس پیٹ سرکل میں 9 مئی 2026 کو پیش آئے تشدد اور اس کے بعد کی پولیس کارروائی پر مبنی ایک تفصیلی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی ہے، جس کا عنوان ہے
“Selective Justice: Detention, Torture, and Religious Targeting”۔
رپورٹ میں واقعے کے بعد ہونے والی پولیس کارروائی، مبینہ غیر قانونی حراست، حراستی تشدد، امتیازی سلوک اور مسلم آبادی کو نشانہ بنانے جیسے سنگین معاملات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ زمینی دورے، متاثرہ خاندانوں اور عینی شاہدین کے بیانات، ایف آئی آرز، ریمانڈ رپورٹس اور دیگر دستیاب دستاویزات کے تفصیلی جائزے کے بعد تیار کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تنازع الماس پیٹ سرکل کا نام “ٹیپو سلطان سرکل” یا “ہنومان سرکل” رکھنے کے مطالبات کے درمیان شدت اختیار کر گیا۔ بتایا گیا ہے کہ میونسپل سطح پر پہلے “ٹیپو سلطان” کے نام کی تجویز زیر غور تھی، تاہم اس کے باوجود بعض عناصر کی جانب سے بغیر اجازت “ہنومان سرکل” کے بینرز نصب کیے گئے، جس کے بعد ماحول کشیدہ ہوگیا۔
اے پی سی آر کی تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں متعدد سنگین الزامات درج کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:
مسلم نوجوانوں اور شہریوں کو ایف آئی آرز اور گرفتاریوں میں غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا گیا۔
کم از کم 25 مسلم نابالغوں کو مبینہ طور پر حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جووینائل قوانین کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
22 مسلم افراد کو مبینہ طور پر بغیر وارنٹ تین دن تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور دورانِ حراست تشدد کیا گیا۔
مسلم ملزمان پر سنگین اور ناقابلِ ضمانت دفعات عائد کی گئیں، جبکہ غیر مسلم ملزمان پر نسبتاً ہلکی دفعات لگائی گئیں۔
پولیس نے مجمع منتشر ہونے کے بعد بھی مسلم اکثریتی علاقوں میں گھس کر شدید لاٹھی چارج کیا۔
متاثرین اور گواہوں نے حراستی تشدد، دھمکیوں اور قانونی حقوق سے محرومی کے الزامات عائد کیے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری بیانیہ، جس میں واقعے کو “دو برادریوں کے درمیان جھڑپ” قرار دیا گیا، زمینی حقائق اور دستیاب شواہد سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتا۔ اے پی سی آر کے مطابق ریاستی کارروائی میں “منتخب قانون نافذ کرنے” اور “امتیازی استغاثہ” کے واضح آثار دیکھے گئے۔
تنظیم نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تنازع سے قبل کشیدگی کے امکانات موجود تھے، اس کے باوجود اشتعال انگیز سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
اے پی سی آر نے اپنے مطالبات میں کہا ہے کہ:
واقعے اور بعد کی پولیس کارروائی کی آزاد عدالتی یا مجسٹریل جانچ کرائی جائے۔
نابالغوں سے متعلق تمام مقدمات کا جووینائل جسٹس قوانین کے تحت فوری جائزہ لیا جائے۔
ایف آئی آرز اور مقدمات میں قانونی مساوات اور طریقۂ کار کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج، کال ریکارڈز اور پولیس لاگز کو محفوظ کر کے فارنسک جانچ کی جائے۔
حراستی تشدد یا امتیازی رویّے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
متاثرین اور گواہوں کو قانونی امداد، طبی سہولت اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
اے پی سی آر نے زور دے کر کہا کہ قانون کا مساوی اطلاق، شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کا احتساب ہی عوامی اعتماد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بحالی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
کڑپہ الماس پیٹ واقعہ پر مبنی مکمل رپورٹ
“Selective Justice: Detention, Torture, and Religious Targeting – Fact-Finding Report on the Kadapa Almaspet Incident”
اب اے پی سی آر کے ذریعے دستیاب بھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…