مغربی بنگال میں، کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے پہلے ہی واضح کردیا تھاکہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ بنیں گے۔ منگل (5 مارچ 2024) کو، انہوں نے ریاستی دارالحکومت کولکتہ میں بتایا کہ 7 مارچ 2024 کی دوپہر کو ایک پروگرام ہو سکتا ہے، جس میں وہ بی جے پی میں شامل ہوں گے۔جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے آج ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے منگل (5 مارچ 2024) کی صبح ہائی کورٹ میں چیمبر پہنچے، جس کے بعد ان کی جانب سے استعفیٰ بھیجا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ جسٹس گنگوپادھیائے نے اپنا استعفیٰ صدر دروپدی مرمو کو بھیجا اور اس کی کاپیاں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) ڈی وائی چندرچوڑ اور کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ٹی ایس سیواگننم کو بھیجیں۔ویسے، 1 دن پہلے یعنی 4 مارچ 2024 کو جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے بتایا تھا کہ انہوں نے بطور جج اپنا کام مکمل کر لیا ہے، کیونکہ کچھ وکلاء اور مدعیان نے ان سے جج کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ جسٹس ابھیجیت کس سیٹ سے لوک سبھا کا انتخاب لڑیں گے۔ کیا مغربی بنگال کی ہی کسی سیٹ سے امیدوار ہوں گے یا پھر ریاست کے باہر دوسری کسی سیٹ سے انہیں موقع دیا جاسکتا ہے ،اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں آیا ہے البتہ جب ابھیجیت سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس کو پارٹی اعلیٰ کمان پر چھوڑ دیا اور کہا کہ پارٹی طے کرے گی کہ کس سیٹ سے الیکشن لڑنا ہے۔تملوک لوک سبھا سیٹ سے جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے کو بی جے پی کا امیدوار بنایا جاسکتا ہے ،ایسے باتیں کہی جارہی ہیں۔ بتادیں کہ ابھیجیت گنگوپادھیائے کو 2018 میں کولکتہ ہائی کورٹ میں جج کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ جسٹس گنگوپادھیائے نے ہزارہ کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ ریاستی خدمت کے افسر بھی رہ چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
سبودھ اونیال کے ساتھ تنازع پر گوردیپ مہندی کا پہلا ردعمل، کہا والد کی باتوں…
غازی آباد کے سن سٹی میں چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی پر مبنی عظیم ڈرامہ…
پٹنہ میں کانگریس صدر نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کیے،…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھونیشور میں ریزرو بینک آف انڈیا کے نئے ڈیٹا سینٹر…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے…
انڈیا اے (IND A) بمقابلہ پاکستان اے (PAK A): ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز 2026 میں…