جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحان کے تنازعہ سے متعلق احتجاج کررہے طلبہ اورجھارکھنڈ حکومت کے نمائندوں کے درمیان جمعہ کی شام اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، تاہم یہ بات چیت کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ میٹنگ کے بعد طلبہ کے نمائندوں نے کہا کہ ان کے اہم مطالبات پرحکومت کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہوسکا، اس لیے فی الحال احتجاج جاری رہے گا۔ تاہم حکومت کی جانب سے مذاکرات کومثبت قراردیا گیا ہے۔ وزراء نے کہا کہ طلبہ کے تمام مطالبات اورتجاویزکوسنجیدگی سے سنا گیا ہے۔ حکومت طلبہ کے میمورنڈم اورتجاویزکا مکمل جائزہ لینے کے بعد آئندہ کی کارروائی اورفیصلہ کرے گی۔
غلط فہمی دورکرنے کی کوشش
JPSC-JSSC امتحان کے تنازع کو لے کر طلبہ اور حکومت کے درمیان ہونے والی بات چیت کو دونوں فریقوں نے مثبت قرار دیا۔ حکومت کے نمائندوں نے کہا کہ طلبہ اور حکومت کے درمیان بعض معاملات میں ’’غلط فہمی‘‘ تھی، جسے بات چیت کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تمام مطالبات پرسنجیدگی سے غور کا یقین
حکومت کی جانب سے طلبہ کو یقین دلایا گیا کہ ان کے تمام مطالبات اورتجاویزپرسنجیدگی سے غورکیا جائے گا۔ حکومتی نمائندوں نے کہا کہ میٹنگ میں اٹھائے گئے تمام مسائل کووزیراعلیٰ ہیمنت سورین کے سامنے رکھا جائے گا اورجلد ہی اس سلسلے میں فیصلہ لیا جائے گا۔ وہیں، طلبہ کے نمائندوں نے بھی کہا کہ بات چیت کا ماحول مثبت رہا اورحکومت نے ان کی باتوں کو سنجیدگی سے سنا۔ طلبا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے تمام مطالبات کے ساتھ ان کے حق میں حقائق اور شواہد بھی حکومت کے سامنے پیش کیے۔ طلبہ نمائندوں کے مطابق، میٹنگ میں موجود کمیٹی کے ارکان نے ان کے مطالبات سے اتفاق بھی کیا ہے۔
مطالبات پر فیصلہ ہونے تک جاری رہے گا احتجاج
تاہم طلبہ نے واضح کردیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوتا، احتجاج جاری رہے گا۔ طلبا کا کہنا ہے کہ اگرحکومت نے مثبت فیصلہ نہیں لیا تواحتجاج کومزید تیز کیا جائے گا۔ طلبہ نے امید ظاہرکی کہ 10 اگست کومجوزہ اسمبلی گھیراؤسے پہلے حکومت کوئی حل نکال لے گی۔ فی الحال حکومت اورطلبا کے درمیان ہونے والی بات چیت کومثبت قراردیا جا رہا ہے اوراب سب کی نظریں حکومت کے اگلے فیصلے پرہیں۔
احتجاج کے 14ویں دن حکومت اور طلبہ آمنے سامنے
JPSC-JSSC امتحان کے تنازع کو لے کر جاری طلبہ کے احتجاج کے 14ویں دن حکومت اورطلبا نمائندوں کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے۔ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں جمعہ کی شام تقریباً 7 بجے شروع ہونے والی میٹنگ میں حکومت کی جانب سے وزیردیپیکا پانڈے سنگھ، سدیویہ کمارسونو، چمرا لنڈا، سنجے یادواورایڈیشنل چیف سکریٹری اجے کمارسنگھ شریک ہوئے۔ وہیں طلبہ کی جانب سے رویندر پاسوان، پیوش کمار، راجیش پرساد، نیتو کجور، انکت راج، کارتک سورین، شالو کماری، رویندرکمارروی، آنند کماراورانکت کمارسمیت 10 رکنی نمائندہ وفد نے شرکت کی۔ وفد نے اپنے مطالبات اوراعتراضات حکومت کے سامنے تفصیل سے رکھے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا…
وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ اور عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے…
ممتا بنرجی نے بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا، انہوں نے پہلے ہی…
نٹھاری قتل معاملے سے متعلق آخری کیس میں بھی سریندر کولی کو سپریم کورٹ سے…
عدالت نے کہا کہ انتخابی ضابطوں کی ان خلاف ورزیوں کے لیے اجتماعی انتخابی ہرجانہ…