قومی

Strait of Hormuz: مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان مودی حکومت کا بڑا دعویٰ، آبنائے ہرمز سے دو چار نہیں، پورے 62 جہاز بحفاظت گزرے

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں سربانند سونووال نے جمعہ کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ خلیجی خطے سے 4,052 ملاحوں کو واپس ہندوستان لایا جا چکا ہے اور 3 اگست تک ہندوستان آنے والے 62 جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر چکے ہیں۔ ان میں 23 ہندوستانی پرچم بردار جبکہ 39 غیر ملکی پرچم والے جہاز شامل ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ سمندری سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مرچنٹ شپنگ (DGMA) مشرق وسطیٰ کے تنازع کے دوران ہندوستانی ملاحوں کی سلامتی بڑھانے کے لیے اپنی ایڈوائزری مسلسل اپ ڈیٹ کرتا رہتا ہے۔

جہازوں کے لیے آئی ایس پی ایس کوڈ کے حفاظتی اقدامات لازمی

لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر نے کہا کہ تجارتی جہازوں پر دوبارہ ہونے والے حملوں کے پیش نظر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مرچنٹ شپنگ نے مکمل بین الاقوامی شپ اور پورٹ فیسلٹی سکیورٹی (ISPS) کوڈ کے حفاظتی اقدامات نافذ کرنا لازمی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خلیجی خطے سے گزرنے والے بحری سفر میں ہندوستانی ملاحوں کو تعینات نہ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

بحیرۂ اسود اور باب المندب کے لیے بھی ایڈوائزری جاری

بحیرۂ اسود میں کام کرنے والے ہندوستانی ملاحوں کو لے جانے والے ہندوستانی اور غیر ملکی پرچم بردار جہازوں کے لیے بھی DGMA کی جانب سے ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ اس میں انتہائی احتیاط برتنے، ہر سفر کے لیے مخصوص سکیورٹی جائزہ لینے، حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے اور کسی بھی واقعے کی فوری اطلاع دینے کو کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے باب المندب، جنوبی بحیرۂ احمر اور اس سے متصل یمن کے پانیوں میں کام کرنے والے جہازوں کے لیے بھی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ اس میں جہاز مالکان اور کپتانوں کو انتہائی احتیاط برتنے، سکیورٹی کی صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھنے اور خطرات کو کم کرنے کے لیے اضافی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

آبنائے ہرمز میں 24 گھنٹے کنٹرول روم قائم

مرکزی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے آبنائے ہرمز میں ہندوستانی ملاحوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں ایک مخصوص 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم کا قیام، جہازوں اور عملے کا لائیو ڈیٹا بیس برقرار رکھنا اور جہازوں کی نقل و حرکت، ہندوستانی ملاحوں، واقعات اور جانی نقصانات کی نگرانی کے لیے ہر 24 گھنٹے میں صورتِ حال کی رپورٹ جاری کرنا شامل ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ DGMA نے فوری رپورٹنگ اور ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی تیار کیا ہے، جس میں 24 گھنٹے فعال سمندری حادثات کی رپورٹنگ، بحران سے نمٹنے اور ملاحوں کی شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی ماڈیول شامل ہیں۔  مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت متاثرہ ملاحوں کے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں ہے اور انہیں فلاحی و امدادی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ جانی نقصان کی صورت میں معاوضہ بھی دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوری امداد کے طور پر سیفررز ویلفیئر فنڈ سوسائٹی کے ذریعے 10 لاکھ روپے جاری کیے جانے کا انتظام بھی شامل ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

3 hours ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

4 hours ago